یہ تعبیر معلوم ہوتی ہے کہ یک دفعہ کوئی ایسے امور پید اہو جائیں۔ جن سے حاکم کی آنکھیں کھل جائیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب میںنے بھینس بنائی ہے تو اس نشان کے ظاہر ہونے سے کہ خد اتعالیٰ نے ایک لکڑی یا ایک پتھر کوایک سفید حیوان بنا دیا جو دودھ دیتا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی ہے اور یک دفعہ سجدہ میں گرا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں،ربی الا علی ربی الارعلی۔اور سجدہ میں گرنے کی بھی یہی تعبیر ہے کہ دشمن پر فتح ہے۔ اس کی تاید میںکئی الہامات ہوئے ہیںایک یہ الہام ہے:۔ انا تجالدنا فاتطع ابعد و اسبابہ۔ یعنی ہم نے دشمن کے ساتھ تلوار سے لڑائی کی۔ پس ٹکرے ٹکڑے ہو گیا اور اس کے اسباب بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ آنیدہ خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے اور اس خواب اور الہام کا مصداق کونسا امر ہے؟کیا آپ کو معلوم ہے کہ محمد بخش کے کہاں گھر ہیں؟ اور ذات کا کون ہے۔ مجھے سرسری طور پر معلوم ہو اہے کہ ذات کا … ہے اور گوجرانوالہ میں اس کے گھر ہیں اور معلوم ہو اہے کہ نظام الدین اس کے ایک شادی پر گوجرانوالہ میں گیا تھا اور تنبول دیا گیا۔ اگر اس کا کچھ پتہ آپ کو معلوم ہو ضرور مطلع فرماویں۔ والسلام خاکسار غلام احمدعفی عنہ ۵؍ فروری ۱۸۹۹ ء قادیان (۲۶۵) ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ۱۶؍ فروری ۱۸۹۹ء مکرمی اخویم منشی رستم علی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ کل میں پٹھان کوٹ سے واپس آگیا ۔ ۲۴؍ فروری ۱۸۹۹ء میرے بیان کے لئے اور فیصلہ کے لئے مقرر ہوئی ہے۔ حالات بظاہر ابتر اور خراب معلوم ہوتے ہیں۔ محمد حسین