مجھے بیماری کی حالت میں شدائد سفر اُٹھانے سے امن رہے گا۔ ورنہ جس جگہ غزنوی صاحبان اور مولوی عبدالرحمن (اس عاجز کو ملحد اور کافر قرار دینے والے) یہ جلسہ منعقد ہونا مناسب سمجھیں تو اسی جگہ یہ عاجز حاضر ہو سکتا ہے۔ والسلام مکرر یہ کہ ۲۳؍ مارچ ۹۱ء تاریخ جلسہ مقرر ہوگئی ہے اور یہ قرار پایا ہے کہ بمقام امرتسر یہ جلسہ ہو۔ اشتہارات عام طور پر اپنے واقف کاروں میں یہ عاجز شائع کر دے گا ایسا ہی آپ کو بھی اختیار ہے آپ بواپسی ڈاک جواب سے مطلع فرماویں کہ جواب کا انتظار ہے۔ خاکسار۔ غلام احمد از لدہیانہ محلہ اقبال گنج مکان شہزادہ غلام حیدر ۸؍ مارچ ۱۸۹۱ء نمبر ۶ نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ مخدومی مکرمی اخویم مولوی صاحب سلمہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ پہنچا اس عاجز کے لئے بڑی مشکل کی بات یہ ہے کہ طبیعت اکثر دفعہ ناگہانی طور پر ایسی علیل ہو جاتی ہے کہ موت سامنے نظر آتی ہے اور کچھ کچھ علالت تو دن رات شامل حال ہے اگر زیادہ گفتگو کروں تو دورہ مرض شروع ہو جاتا ہے اگر زیادہ فکر کروں تو وہی دورہ شامل حال ہے چونکہ آپ کا آخری خط آیا معلوم ہوتا تھا کہ گویا بشمولیت مولوی عبدالجبار صاحب لکھا گیا ہے اس لئے جواب اس طرز سے لکھا گیا تھا یہ عاجز غلبہ مرض سے بالکل نکما ہو رہا ہے یہ طاقت کہاں ہے کہ مباحث تقریری یا تحریری شروع کروں محض خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ تینوں رسالے لکھے گئے اور وہ بھی اس طرح سے کہ اکثر دوسرا شخص اس عاجز کی تقریر کو لکھتا گیا اور نہایت کم اتفاق ہوا کہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھا ہو اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ عبارت کو عمدگی سے درست کر دیا جاوے۔ آپ کے معلومات حدیث میں بہت وسیع ہیں یہ عاجز ایک اُمی اور جاہل آدمی ہے نہ عبادت ہے، نہ ریاضت، نہ علم، نہ لیاقت، غرض کچھ بھی چیز نہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک امر تھا اور قطعی اور یقینی تھا اس عاجز نے پہنچا دیا ماننا نہ ماننا اپنی