نبوی اصد قکم حدیثا۳؎ کے صادق ثابت ہوتا ہے معہذا ایک اور بات بھی ذریعہ آزمائش صادق ہو جاتی ہے جس کو خدا تعالیٰ آپ ہی پیدا کرتا ہے اور وہ یہ ہے کہ کبھی انسان کسی ایسی بلا میں مبتلا ہوتا ہے کہ اُس وقت بجز کذب کے اور کوئی حیلہ رہائی اور کامیابی کا اس کو نظر نہیں تب اُس وقت وہ آزمایا جاتا ہے کہ آیا اس کی شرست میں صدق ہے یا کذب اور آیا اس نازک وقت میں اس کی زبان پر صدق جاری ہوتا ہے یا اپنی جان اور آبرو اور مال کا اندیشہ کر کے جھوٹ بولنے لگتا ہے اس قسم کے نمونے بھی عاجز کو کئی دفعہ پیش آئے ہیں جن کا مفصل بیان کرنا موجب تطویل ہے تا ہم تین نمونے اِس غرض سے پیش کرتا ہوں کہ اگر اُن کے برابر بھی کبھی آپ کو آزمائش صدق کے موقع پیش آئے ہیں تو آپ کو اللہ جلشانہٗ کی قسم ہے کہ آپ اُن کو معہ ثبوت اُن کے ضرور شائع کریں تا معلوم ہو کہ آپ کا صرف دعویٰ نہیں بلکہ امتحان اور بلا کے شکنجہ میں بھی آ کر آپ نے صدق نہیں توڑا ازاں جملہ ایک یہ واقعہ ہے کہ میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد مرزا اعظم بیگ صاحب لاہوری نے شر کا ملکیت قادیان سے مجھ پر اور میرے بھائی مرحوم مرزا غلام قادر پر مقدمہ دخل ملکیت کا عدالت ضلع میں دائر کر دیا اور میں بظاہر جانتا تھا کہ اُن شرکاء کو ملکیت سے کچھ غرض نہیں کیونکہ وہ ایک گم گشتہ چیز تھی جو سکھوں کے وقت میں نابود ہو چکی تھی اور میرے والد صاحب نے تن تنہا مقدمات کر کے اس ملکیت اور دوسرے دیہات کے بازیافت کے لئے آٹھ ہزار کے ۱؎ الانفال: ۳۰ یونس: ۶۸ ۳؎ مسلم کتاب الرؤیا باب فی کون الرؤیا من اللّٰہ وانھا جزء من النبوۃ حدیث نمبر۵۹۰۵ قریب خرچ و خسارہ اُٹھایا تھا وہ شر کا ایک پیسہ کے بھی شریک نہیں تھے سو اُن مقدمات کے اثنا میں جب میں نے فتح کے لئے دعا کی تو یہ الہام ہوا کہ اُجیب کل دعائک الافی شرکائک یعنی میں تیری ہر یک دعا قبول کروں گا مگر شرکاء کے بارے میں نہیں سومیں نے اس الہام کو پا کر اپنے بھائی اور تمام زن و مرد و عزیزوں کو جمع کیا جو اُن میں سے بعض اب تک زندہ ہیں اور کھول کر کہہ دیا کہ شرکا کے ساتھ مقدمہ مت کرو یہ خلاف مرضی حق ہے مگر انہوں نے قبول نہ کیا اور آخر ناکام ہوئے لیکن میری طرف سے ہزار ہا روپیہ کا نقصان اُٹھانے کیلئے استقامت ظاہر ہوئی اس کے وہ سب جو اَبْ دشمن ہیں گواہ ہیں چونکہ تمام کاروبار زمینداری میرے بھائی کے ہاتھ میں تھا اس