بسر کی اگر خدا تعالیٰ کی اس عنایت نے جو مومنوں اور صادقوں اور راستبازوں کے شامل حال ہوتی ہے مجھ کو سچا کر دیاتو پھر آپ فرماویں کہ یہ نام اس وقت آپ کی مولویانہ شان کے سزاوار ٹھہریں گے یا اس وقت بھی کوئی کنارہ کشی کا راہ آپ کے لئے باقی رہے گا آپ نے مجھ کو بہت دکھ دیا اور ستایا میں صبر کرتا گیا مگر آپ نے ذرہ اس ذات قدیر کا خوف نہ کیا جو آپ کی تہہ سے واقف ہے اس نے مجھے بطور پیشگوئی آپ کے حق میں اور پھر آپ کے ہم خیال لوگوں کے حق میں خبر دی کہ اِنی مہین من اراداھانتک یعنی میں اس کو خوار کروں گا جو تیرے خوار کرنے کی فکر میں ہے۔
سو یقینا سمجھو کہ اب وہ وقت نزدیک ہے جو خدا تعالیٰ ان تمام بہتانات میں آپ کا دروغگو ہونا ثابت کر دے گا اور جو بہتان تراش اور مفتری لوگوں کو ذلتیں اور ندامتیں پیش آتی ہیں اُن تمام ذلتوں کی مار آپ پر ڈالے گا آپ کاد عویٰ ہے کہ میں قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں پس اگر آپ اس قول میں سچے ہیں تو آزمائش کے لئے میدان میں آویں تا خدا تعالیٰ ہمارا اور تمہارا خود فیصلہ کرے اور جو کاذب اور دجال ہے روسیاہ ہو جائے اور میرے دل سے اس وقت حق کی تائید کے لئے ایک بات نکلتی ہے اور میں اس کو روک نہیں سکتا کیونکہ وہ میرے نفس سے نہیں بلکہ القا ء ربی ہے جو بڑے زور سے جوش مار رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب کہ آپ نے مجھے کافر ٹھہرایا اور جھوٹ بولنا میری سرشت کا خاصہ قرار دیا تو اب آپ کو اللہ جلشانہٗ کی قسم ہے کہ حسبِ طریق مذکورہ بالا میرے مقابلہ پر فی الفور آجاؤ تا دیکھا جائے کہ قرآن کریم اور فرمودہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رو سے کون کاذب اور دجال اور کافر ثابت ہوتا ہے اور اگر اس تبلیغ کے بعد ہم دونوں میں سے کوئی شخص متخلف رہا اور باوجود اشد غلو اور تکفیر اور تکذیب اور تفسیق کے میدان میں نہ آیا اور شغال کی طرح دُم دبا کر بھاگ گیا تو وہ مندرجہ ذیل انعام کا مستحق