نمبر۷ نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ مخدومی مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا خط آج کی ڈاک میں مجھ کو ملا اور اس کے پڑھنے سے مجھ کو بہت ہی افسوس ہوا کہ آپ مکالات الٰہیہ کے امر کو لہو ولعب میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اس عاجز نے براہین احمدیہ کے صفحہ ۴۹۸ و ۴۹۹ میں اس ظاہری عقیدے کی پابندی سے جو مسلمانوں میں مشہور ہے یہ عبارت لکھی ہے کہ یہ آیت حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق میں پھیل جائے گا چونکہ اس عاجز کو حضرت مسیح سے مشابہت تامہ ہے اس لئے خداوندکریم نے مسیح کی پیشگوئی میں ابتداء سے اس عاجز کو شریک رکھا ہے فقط ان عبارتوں کو اس کے لئے دستاویز ٹھہرانا کہ براہین میں اوّل یہ اقرار ہے اور پھر اس کے مخالف یہ دعویٰ اور ایسا خیال سراسرغلط اور دور از حقیقت ہے۔ اے میرے عزیز دوست اس عاجز کے اس دعویٰ کی جو فتح اسلام میں شائع کیا گیا ہے اپنے علم اور عقل پر بنا نہیں تا ان دونوں بیانات میں بوجہ اتحاد بناء صورت میں تناقض پیدا ہو بلکہ براہین کی مذکورہ بالا عبارتیں تو صرف اس ظاہری عقیدے کے رو سے ہیں جو سرسری طور پر عام طور پر اس زمانہ کے مسلمان مانتے ہیں اور اس دعویٰ کی بنا الہام الٰہی اور وحی ربّانی پر ہے پھر تناقض کے کیا معنے ہیں۔ میں خود یہ مانتا ہوں اور تسلیم کرتا ہوں کہ جب تک خدا تعالیٰ کسی امر پر بذریعہ اپنے خاص الہام کے مجھے آگاہ نہ کرے میں خود بخود آگاہ نہیں ہو سکتا اور یہ امر میرے لئے کچھ خاص نہیں اس کی نظیریں انبیاء کی سوانح میں بہت ہیں ملہم لوگ بغیر سمجھائے نہیں سمجھتے لاعلم لی الا ما علّمنی ربی بلکہ خدا تعالیٰ کا سمجھانا بھی جب تک صاف طور پر نہ ہو انسان ضعیف البیان اس میں بھی دھوکا کھا سکتا ہے۔ فذھب وھلی۱؎ کی حدیث آپ کو یاد ہی ہوگی۔ اب خدا تعالیٰ نے فتح اسلام کی تالیف کے وقت مجھے سمجھا یا تب میں سمجھا اِس سے پہلے کوئی اس بارے میں الہام نہیں ہوا کہ درحقیقت وہی مسیح آسمان سے اُتر آئے گا اگر ہے تو آپ کو پیش کرنا چاہئے ہاں یہ عاجز روحانی طور پر مثیل موعود ہونے کا براہین میں دعویٰ کر چکا ہے جیسا کہ