اب دو زانو ہو کر بیٹھو اور یوم الجزاء کی تصویر کھینچ کر غور کرو۔
ہاں! مسیح کی دادیوں اور نانیوں کی نسبت جو اعتراض ہے اس کا جواب بھی کبھی آپ نے سوچا ہوگا؟ ہم تو سوچ کر تھک گئے اب تک کوئی عمدہ جواب خیال میں نہیں آیا۔ کیا ہی خوب خدا ہے جس کی دادایاں اور نانیاں اس کمال کی ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ ہم بقول آپ کے مرد میدان بن کر ہی رسالہ لکھیں گے! اور آپ کو دکھائیں گے کہ وساوس کی بیخ کنی اسے کہتے ہیں۔ اس جاہل گمراہ کا شکست دینا کونسی بڑی بات ہے جو انسان کو خدا بناتا ہے۔ مگر آپ براہ مہربانی ان چند باتوں کا جو میں نے دریافت کی ہیں ضرور جواب لکھیں اور ان الفاظ سے ناراض نہ ہوں جو لکھے گئے ہیں کیونکہ الفاظ محل پر چسپاں ہیں اور آپ کی شان کے شایان ہیں جس حالت میں آپ نے باوجود بے علمی اور جہالت کے آنحضرت صلعم پر جو سیّد المطہرین ہیں زنا کی تہمت لگائی جو اس پلید اور جھوٹ افتراء کا یہی جواب تھا جو آپ کو دیا گیا ہم نے بہتیرا چاہا کہ آپ لوگ بھلے مانس بن جاویں اور گالیاں نہ دیا کریں مگر آپ لوگ نہیں مانتے۔ آپ ناحق اہل اسلام کا دل دکھاتے ہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ ہمارے نزدیک وہ نادان ہر ایک زنا کار سے بدتر ہے جو انسان کے پیٹ سے نکل کر خدا ہونے کا دعویٰ کرے۔ اگر آپ لوگ مسیح کے خیر خواہ ہوتے تو ہم سے جناب مقدس نبوی کے ذکر میں بادب پیش آتے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ تم اپنے باپ کو گالی مت دو۔ لوگوں نے عرض کی کہ کوئی باپ کو بھی گالی دیتا ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں! جب تو کسی کے باپ کو بھی گالی دے گا تو وہ ضرور تیرے باپ کو بھی گالی دے گا۔ تب وہ گالی اس نے نہیں دی بلکہ تو نے دی ہے۔ اسی طرح آپ لوگ جانتے ہیں کہ آپ کے بودے جھوٹے خدا کی بھی اچھی طرح بھگت سنواری جائے ۔ اب ہم یہ خط بطور نوٹس کے آپ کو بھیجتے ہیں کہ اگر پھر ایسے ناپاک لفظ آپ نے استعمال کئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب میں ناپاک تہمت لگائی تو ہم بھی آپ کے فرضی اورجعلی خدا کی وہ خبر لیں گے جس سے اس کی تمام خدائی ذلّت کی نجاست میں گرے گی۔