توریت کے برخلاف کی ہیں یہاں تک کہ سبت کی بھی پرواہ نہ رکھی اور کھانے پر ہاتھ نہ دھوئے وہ سب مسیح کو مجرم ٹھہراتے ہیں۔ ذرا توریت سے ان سب کا ثبوت تو دو مسیح پطرس کو شیطان کہہ چکا تھا۔ پھر اپنی بات کیوں بھول گیا اور شیطان کو حواریوں میں کیوں داخل رکھا۔ اور پھر آپ کا اعتراض ہے کہ بہت سی عورتوں اور لونڈیوں کو رکھنا یہ فسق و فجور ہے۔ اے نادان! حضرت داؤد علیہ السلام نبی کی بیبیاں تجھ کو یاد نہیں جس کی تعریف کتاب مقدس میں ہے کیا وہ اخیر عمر تک حرام کاری کرتا رہا۔ کیا اسی حرامکاری کی یہ پاک ذرّیت ہے جس پر تمہیں بھروسہ ہے جس خدا نے اوریا کی بیوی کے بارہ میں داؤد پر عتاب کیا کیا؟ وہ داؤد کے اس جرم سے غافل رہا؟ جو مرتے دم تک اس سے سرزد ہوتا رہا بلکہ خدا نے اس کی چھاتی گرم کرنے کو ایک اور لڑکی بھی اُسے دی اور آپ کے خدا کی شہادت موجود ہے کہ داؤد اورا کے قصہ کے سوا اپنے کاموں میں راستباز ہے کیا کوئی عقلمند قبول کر سکتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج خدا کی نظر میں بُری تھی تو خدا اسرائیلی نبیوں کو جو کثرت ازدواج میں سب سے بڑھ کر نمونہ ہیں ایک مرتبہ بھی اس فعل پر سرزنش نہ کرتا پس یہ سخت بے ایمانی ہے کہ جو بات خدا کے پہلے نبیوں میں موجود ہے اور خدا نے اُسے قابل اعتراض نہیں ٹھہرایا۔ اب شرارت اور خباثت سے جناب مقدس نبوی کی نسبت قابل اعتراض ٹھہرائی جاوے۔ افسوس یہ لوگ ایسے بے شرم ہیں کہ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ اگر ایک سے اوپر بیوی کرنا زنا کاری ہے تو حضرت مسیح جو داؤد کی اولاد کہلاتے ہیں ان کی پاک ولادت کی نسبت سخت شُبہ پیدا ہوگا اور کون ثابت کر سکے گا کہ ان کی بڑی نانی حضرت داؤد کی پہلی ہی بیوی تھی۔ پھر آپ حضرت عائشہ صدیقہؓ کانام لے کر اعتراض کرتے ہیں کہ جناب مقدس نبوی صلعم کا بدن سے بدن لگانا اور زبان چوسنا خلاف شرع تھا اس ناپاک تعصب پر کہاں تک روویں۔ اے نادان! جو حلال اور جائز نکاح ہیں ان میں یہ سب باتیں جائز