زمین جب گناہ اور شرک سے آلودہ ہو جاتی ہے اور اس حقیقت سے بے خبر ہو جاتی ہے جو انسان کی پیدائش کی اصل غرض ہے تب خدائی رحمت تقاضا کرتی ہے کہ ایک کامل الفطرت انسان کو اپنی ذات سے پاک تعلق بخش کر اور اپنے مکالمہ سے اُس کو مشرف کر کے اور اپنی محبت میں اُس کو انتہا تک پہنچا کر اُس کے ذریعہ سے دوبارہ زمین کو پاک و صاف کرے۔ انسان خدا تو نہیں ہو سکتا مگر بڑے بڑے تعلقات اس سے پیدا کر لیتا ہے جب وہ بالکل خدا کیلئے ہو جاتا ہے اور اپنے تئیں صاف کرتا ایک مصفّہ آئینہ کی طرح بن جاتا ہے تب اس آئینہ میں عکسی طور پر خدا کاچہرہ نمودار ہوتا ہے اُس صورت میں وہ بشریٰ اور خدائی صفات میں ایک مشترک چیز بن جاتا ہے اور کبھی اس سے صفات الٰہیہ صادر ہوتی ہیں کیونکہ اس کے آئینہ وجود میں خدا کا چہرہ منعکس ہے اور کبھی اُس سے بشریٰ صفات صادر ہوتی ہیں کیونکہ وہ بشر ہے اور ایسے انسانوں کو دیکھنے والے کبھی دھوکا کھا کر اور صرف ایک پہلو کا کرشمہ دیکھ کر ان کو خدا سمجھنے لگتے ہیں اور دنیا میں مخلوق پرستی اسی وجہ سے آتی ہے اور صدہا انسان اسی دھوکا سے خدا بنائے گئے ہیں مگرہمارے اس زمانہ میں جس قدر عیسائیوں کا وہ فرقہ جو حضرت مسیح کو خدا جانتا ہے اس دھوکا میں مبتلا ہے اس قدر کوئی اور قوم مبتلا نہیں مسیح سے صدہا برس پہلے جو لوگ خدا بنائے گئے تھے جیسے راجہ رامچندر، راجہ کرشن، گوتم بدھ ہمارے اس زمانہ میں ان کے پیرو متنبہ ہو جاتے ہیں کہ یہ ان کی غلطیاں تھیں مگر افسوس حضرت مسیح کے پیرو اب تک اس زمانہ میں بھی خواہ نخواہ خدائی کا خطاب ان کو دے رہے ہیں اگر اس خیال کا بطلان ایسا بدیہی تھا کہ کسی دلیل کی ضرورت نہ تھی مگر افسوس کہ عیسائی ابھی تک اُس زمانہ کی ہوا سے بھی دور بیٹھے ہیں بلکہ بعض لوگوں نے جب دیکھا کہ ایسے لغو خیالات کا زمانہ ہی دن بدن مخالف ہوتا جاتا ہے تو انہوں نے اپنی معمولی طریقوں سے مایوس ہو کر یہ ایک نیا طریق اختیار کیا کہ کوئی ان میں سے الیاس بن گیا اور کسی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں مسیح ابن مریم ہوں اور میں ہی خدا ہوں۔ اس مجمل فقرہ سے مراد میری یہ ہے کہ لنڈن میں تو مسٹر پگٹ نے خدائی اور مسیحیت کا دعویٰ کیا اور امریکہ میں مسٹر ڈوئی الیاس بن بیٹھے اور پیشگوئی کر دی کہ مسیح ابن مریم