بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم عرض حال الحمدللّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی رسولہ محمد الامین و خاتم النبیین واعلیٰ آلہٖ اصحابہ الطیبین وعلی خلفائہِ راشدین۔ اما بعد خاکسار ایڈیٹر الحکم نہایت خوشی اور مسرت قلبی سے اس امر کا اظہار کرتا ہے کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس کو اس چشمہ ہدایت کی طرف رہنمائی فرمائی اور اپنے فل ہی سے اس کے ہاتھ میں قلم اور دل و دماغ میںقوت بخشی اور اسے سلسلہ کی قلمی خدمت کے لئے جوش عطا فرمایا تب ہی سے اس کو یہ آرزو رہی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات اور مکتوبات کو جمع کروں محض فضل ربانی ہی نے اس کی دستگیری کی اور اس کو اس خدمت کے ایک حد تک قابل کر دیا۔ الحکم کے ذریعہ اس سلسلہ میں بہت بڑا کام ہوچکا ہے اور پُرانی تحریروں کے جمع کرنے میںبھی اس حد تک کامیابی ہوئی کہ آج میں اس سلسلہ میں یہ تیسرا مجموعہ شائع کرنے کی توفیق پاتا ہوں۔ والحمدللّٰہ علی ذالک مکتوبات کے سلسلہ میں اس وجہ سے پہلی جلد کی اشاعت کے وقت خیال کیا گیا تھا کہ دوسری جلد حضرت خلیفۃ المسیح مدظلہا العالی کے مکتوبات کی ہوگی مگر بعد میں میری رائے ترتیب کے متعلق یوں ہوئی کہ پہلے ان جلدوں کو شائع کرنا چاہئے جو مختلف مذاہب کے ہادیوں اور لیڈروں کے نام کے مکتوبات ہیں۔ چنانچہ اس جلد میں ان مکتوبات کو جمع کیا گیا ہے جو ہندو، آریہ اور براہمو لوگوں کے نام ہیں۔ تیسری جلد میں وہ مکتوبات انشاء اللہ ہونگے جو عیسائی مذہب کے لیڈروں کے نام آپ نے لکھے ہیں۔ غالباً اس امر کا اظہار بھی ضروری ہے کہ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۰۸ء میں پہلی جلد شائع ہوئی تھی اور قریباً چار سال بعد دوسری جلد شائع ہوتی ہے اس