انسان کے خصائص ذاتی میں سے اور اس کا فصل اور ممیز عن الغیر ہے یہ فصل اس کا نہیں کہ ضرور بینا بھی ہو اور آنکھ سے بھی دیکھتا ہو کیونکہ اگر انسان اندھا بھی ہو جائے تب بھی انسان ہے۔بلکہ انسان کے خصائص ذاتیہ سے وہ امر ہے جو بعد مفارقت روح کے بدن سے اس کے نفس میں بنا رہتا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے جو ممکنات میں اس وجہ سے جو وہ سب ترکیب عنصری میں متحد ہیں بعض حالات خارج از حقیقت تامہ ہیں ایک دوسرے کی مشارکت بھی ہوتے ہیں جیسے انسان اور گھوڑا اور درخت کہ جوہر اور صاحب العباد ثلاثہ اور قوت نامیہ ہونے میں یہ تینوں شریک ہیں اور حساس اور متحرک بالارادہ ہونے میں انسان اور گھوڑا مشارکت رکھتے ہیں لیکن ماہیت تامہ ہر ایک کی جدا جدا ہے۔ غرض یہ صفت عارضی ممکنات کی حقیقت تامہ پر زائد ہے جس میں کبھی کبھی تشارک اور کبھی تغائر ان کا ہو جاتا ہے اور باوصف مختلف الحقائق اور متغائر الماہیت ہونے کے کبھی کبھی بعض مشارکات میں ایک جنس کے تحت میں داخل ہو جاتے ہیں بلکہ کسی ایک حقیقت کے لئے ایک اجناس ہوتے ہیں اور یہ بھی کچھ سمجھا کہ کیوں ایسا ہوتا ہے یہ اس واسطے ہوتا ہے کہ ترکیب مادی ان کی اصل حقیقت اُن کے پر زائد ہے اور سب کی ترکیب مادی کا ایک ہی استقس یعنی اصل ہے۔ اب آپ پر ظاہر ہوگا کہ یہ تشارک ممکنات کا خصائص ذاتیہ میں تشارک نہیں بلکہ عوارض خارجیہ میں اشتراک ہے باطنی آنکھ انسان کی جس کو بصیرت قلبی (این لائن منٹ) کہتے ہیں دوسرے حیوانات میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔