اور فرد فرد اس کے زیر نظر ہے اس میں کیا شک ہے کہ جب ایک روح نکل کر مکتی یابوں میں ہو جاوے گی تو پرمیشور کو معلوم ہے کہ یہ فرد اس جماعت میں سے کم ہو گیا اور اُس جماعت میں سے بباعث داخل ہونے اس کے ایک فرد کی زیادتی ہوئی یہ کیا بات ہے کہ اس داخل خارج سے وہی پہلی صورت بنی رہی۔ نہ مکتی یاب کچھ زیادہ ہوں اور نہ وہ ارواح کہ جن سے کچھ روح نکل گئی بقدر نکلنے کے کم ہو جائیں او رنیز ہم کو بھی کوئی برہان منطقی مانع اس بات کے نہیں کہ ہم اس امر متیقن متحقق طور پر رائے نہ لگا سکیں کہ جن چیزوں کا اندازہ بذریعہ ظرف مکانی اور زمانی کے ہم کو معلوم ہو چکا ہے وہ دخول و خروج سے قابل زیادت اور کمی ہیں مثلاً ایک ذخیرہ کسی قدر غلہ کا کسی کوٹھے میں بھرا ہوا ہے اور لوگ اس سے نکال کر لے جاتے ہیں سو گو ہم کو اُس ذخیرہ کا وزن معلوم نہیں لیکن ہم بہ نظر محدود ہونے اس کے رائے دے سکتے ہیں کہ جیسا نکالا جائے گا کم ہوتا جائے گا۔
اور یہ جو آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ خدا کا علم غیر محدود ہے اور روح بھی غیر محدود ہیں اس واسطے خدا کو روحوں کی تعددا معلوم نہیں یہ آپ کی تقریر بے موقع ہے۔ جناب من یہ کون کہتا ہے کہ جو خدا کا علم غیر محدود نہیں۔ کلام و نزاع تو اس میں ہے کہ معلومات خارجیہ اس کے جو تعینات وجود یہ سے مقید ہیں اور زمانہ واحد میں پائے جاتے ہیں اور ظروف زمانی و مکانی میں محصور اور محدود ہیں آیا تعداد اُن اشیاء موجودہ محدودہ معینہ کا اس کو معلوم ہے یا نہیں آپ اُس اشیاء موجودہ محدودہ کو غیر موجود اور غیر محدود ثابت کریں تو بت کام بنتا ہے۔ ورنہ علم الٰہی کہ موجود اور غیر موجود دونوں پر محیط ہے اس کے غیر متناہی ہونے سے کوئی چیز جو تعینات خارجیہ میں مفید ہو