نیکی کرتا ہے۔ سو یہ اخلاقی ترقی کا آخری کمال ہے کہ ہمدردی خلائق میں کوئی نفسانی مطلب یا مدّعا یاغرض درمیان نہ ہو بلکہ اخوت وقرابت انسانی کا جوش اس اعلیٰ درجہ پر نشوونما پاجائے کہ خود بخود بغیر کسی تکلّف کے اور بغیر پیش نہاد رکھنے کسی قسم کی شکر گذاری یادؔ عا یا اور کسی قسم کی پاداش کے وہ نیکی فقط فطرتی جوش سے صادر ہو۔
عزیزو! اپنے سلسلہ کے بھائیوں سے جو میری اس کتاب میں درج ہیں باستثنا اس شخص کے کہ بعد اس کے خدائے تعالیٰ اس کو ردّ کر دیوے خاص طور سے محبت رکھو اور جب تک کسی کونہ دیکھو کہ وہ اس سلسلہ سے کسی مخالفانہ فعل یا قول سے باہر ہو گیاتب تک اس کو اپنا ایک عضو سمجھو۔ لیکن جو شخص مکّاری سے زندگی بسرکرتا ہے اور اپنی بدعہدیوںیا کسی قسم کے جوروجفا سے اپنے کسی بھائی کو آزار پہنچاتا ہے یا وساوس و حرکاتِ مخالف عہد بیعت سے باز نہیں آتا وہ اپنی بدعملی کی وجہ سے اس سلسلہ سے باہر ہے۔ اس کی پرواہ نہ کرو۔
چاہیئے کہ اسلام کی ساری تصویر تمہارے وجود میں نمودارہو اور تمہاری پیشانیوں میں اثرسجود نظر آوے اور خدائے تعالیٰ کی بزرگی تم میں قائم ہو۔ اگر قرآن اورحدیث کے مقابل پر ایک جہان عقلی دلائل کا دیکھو تو ہرگز اس کو قبول نہ کرو اور یقینًا سمجھو کہ عقل نے لغزش کھائی ہے۔ توحید پرقائم رہو اور نماز کے پابند ہوجاؤ اور اپنے مولیٰ حقیقی کے حکموں کو سب سے مقدّم رکھو اوراسلام کے لئے سارے دُکھ اُٹھاؤ۔