خدا بڑی دولت ہے اس کے پانے کے لئے مصیبتوں کے لئے تیار ہوجاؤ۔ وہ بڑی مراد ہے۔ اس کے حاصل کرنے کے لئے جانوں کو فدا کرو۔ عزیزو!! خدائے تعالیٰ کے حکموں کو بے قدری سے نہ دیکھو۔ موجودہ فلسفہ کی زہر تم پر اثر نہ کرے۔ ایک بچے کی طرح بن کر اس کے حکموں کے نیچے چلو۔ نماز پڑھو نماز پڑھو کہ وہ تمام سعادتوں کی کُنجی ہے اور جب تُو نماز کے لئے کھڑا ہوتو ایسا نہ کر کہ گویا تُو ایک رسم ادا کر رہا ہے بلکہ نماز سے پہلے جیسے ظاہری وضو کرتے ہو ایسا ہی ایک باطنی وضو بھی کرو۔ اور اپنے اعضاء کو غیر اللہ کے خیال سے دھو ڈالو۔ تب ان دونوں وضوؤں کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ اور نماز میں بہت دعا کرو اور رونا اور گڑگڑانا اپنی عادت کر لو تا تم پر رحم کیاجائے۔ سچاؔ ئی اختیار کرو سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔ کیا انسان اس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔کیا اس کے آگے بھی مکّاریاں پیش جاتی ہیں۔نہایت بدبخت آدمی اپنے فاسقانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں۔ تب وہ بہت جلد ہلاک کیاجاتاہے اورخدائے تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔ عزیزو! اس دنیا کی مجر د منطق ایک شیطان ہے اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے اور بیباکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریّت کے پہنچا تا ہے۔ سوتم اس سے اپنے تئیں بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اوربغیر چون چراکے حکموں کو ماننے والے ہوجاؤ جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کومانتا ہے۔ قرآن کریم کی تعلیمیں تقویٰ کے اعلیٰ درجہ تک پہنچانا چاہتی ہیں ان کی طرف کان دھرو اور اُن کے موافق اپنے تئیں بناؤ۔ قرآن شریف انجیل کی طرح تمہیں صرف یہ نہیں کہتا کہ نامحرم عورتوں یاایسوں کو جو عورتوں کی طرح محلِ شہوت ہوسکتی ہیں شہوت کیؔ نظر سے مت دیکھو بلکہ اس کی کامل تعلیم کا یہ منشاء ہے کہ تُو بغیر ضرورت نامحرم کی طرف نظر مت اُٹھا نہ شہوت سے اور نہ بغیر شہوت۔