یہاں تک بخاری کی حدیث کا ترجمہ ہو چکا اور آپ لوگوں نے سمجھ لیا ہو گا کہ امام بخاری صاحب امامکم منکم کے لفظ سے کس طرف اشارہ کر گئے ہیں العاقل تکفیہ الاشارۃ اب مسلم کی حدیث کا ترجمہ متوجہ ہو کر سُنیں اور وہ یہ ہے۔
صحیح ؔ مسلم
وعن النواس بن سمعان قال ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الدجّال۔ فقال ان یخرج و انا فیکم فانا حجیجہ دونکم وان یخر ج ولست فیکم فکل امرء حجیج نفسہ واللہ خلیفتی علٰی کل مسلم انّہ شاب قطط عینہ طافیۃ کانّی اُشبِّھہٗ بعبد العزّٰی ابن قطن فمن ادرکہ منکم فلیقرء علیہ فواتح سورۃ الکہف فاؔ نھا جوارکم من فتنۃ
ترجمہ
اور نواس بن سمعان سے روایت ہے * کہ رسول خداصلعم نے دجال کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر میر ی زندگی میں دجّال نکل آوے تو میں تمہارے سامنے اس سے جھگڑوں گا ( یہ فقرہ آئندہ کی پیشگوئی کو جو ضرور مسیح ابن مریم کے نازل ہونے کے وقت دجّال نکلے گا ضعیف کرتا ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دراصل دجّال کے نکلنے کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں کیا گیا تب ہی تو خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صَیَّاد پر بھی دجّا ل ہونے کا گمان کیا تھا اُس وقت مسیح کہاں تھا ؟ ) اور پھر فرمایا اگر دجّال نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہریک شخص اپنی ذات سے اُس سے لڑے گا یعنی دلائل عقلیہ و شرعیہ کے ساتھ۔ اور فرمایا کہ میرے بعد خدائے تعالیٰ ہرایک مسلمان پر میرا خلیفہ ہے اور پھر فرمایا کہ اس کے بال بہت مڑے ہوئے ہیں اور آنکھیں پُھولی ہوئی گویا مَیں (عالم کشف میں)عبدالعزّٰی ابن قطن کے ساتھ اُس کو تشبیہ دیتا ہوں۔
تشریح
مُلّا علی قاری نے لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دَجّا ل کو خواب یا کشف کی حالت میں دیکھا تھا اورچونکہ وہ ایک مثالی عالم ہے اس لئے
*حاشیہ: بانی مبانی اس تمام روایت کا صرف نواس بن سمعان ہے اور کوئی نہیں ہے یہ بات نہایت عجیب ہے کہ اس روایت کی نسبت اجماع صحابہ کا خیال کیا جاتا ہے اور عنقریب معلوم ہوگا کہ یہ اور روایتوں کے برخلاف ہے۔ منہ