کہ جو کچھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے اعتراض کا خود اپنی زبان مبارک سے جواب دیا در حقیقت وہی جواب ہریک معترض کے ساکت کرنے کے لئے کافی و وافی ہے کیونکہ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شے ہے ہریک محقق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پوؔ رے پورے طور پر مخالف گُم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے پھر اگر وہ سچ کو سن کر افروختہ ہو تو ہوا کرے ہمارے علماء جو اس جگہ لَا تَسُبُّوْا کی آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدعا سے کیا تعلق ہے۔ اس آیت کریمہ میں تو صرف دُشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہاؔ ر حق سے روکا گیا ہو اگر نادان مخالف حق کی مرار ت اور تلخی کو دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کرے توکیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہیئے؟کیااس قسم کی گالیاں
خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کے دل پر نازل کی صرف ؔ کوئی کوئی فقرہ تشریح کے لئے اس عاجز کی طرف سے ہے اس الہامی عبارت سے ابو طالب کی ہمدردی اور دلسوزی ظاہرہے لیکن بکمال یقین یہ بات ثابت ہے کہ یہ ہمدردی پیچھے سے انوار نبوت وآثار استقامت دیکھ کر پیدا ہوئی تھی ہمارے سیّد ومولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا حصہ عمر کا جو چالیس برس ہے بیکسی اور پریشانی اور یتیمی میں بسر کیا تھاکسی خویش یا قریب نے اس زمانہ تنہائی میں کوئی حق خویشی اور قرابت کا ادا نہیں کیا تھا یہاں تک کہ وہ روحانی بادشاہ اپنی صغر سنی کی حالت میں لاوارث بچوں کی طرح بعض بیابان نشین اور خانہ بدوش عورتوں کے حوالہ کیا گیا اوراُسی بے کسی اور غریبی کی حالت میں اس سیّد الانام نے شیر خوارگی کے دنؔ پورے کئے اورجب کچھ سن تمیز پہنچاتو یتیم اور بے کس بچوں کی طرح جن کا دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوتا اُن بیابان نشین لوگوں نے بکریاں چرانے کی خدمت اُس مخدوم العالمین کے سپُرد کی اور اُس تنگی کے دنوں میں