۷؍مئی ۱۹۰۷ئ
بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہٗ نُصلی علیٰ رسولہ الکریم
اپنی جماعت کیلئے ضروری نصیحت
چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ ان دنوں میں بعض جاہل اور شریر لوگ اکثر ہندوئوں میں سے او رکچھ کچھ مسلمانوں میں سے گورنمنٹ کے مقابل ایسی ایسی حرکات ظاہر کرتے ہیں جن سے بغاوت کی بُوآتی ہے بلکہ مجھے شک ہوتاہے کہ کسی وقت باغیانہ رنگ ان کی طبائع میں پیدا ہو جائیگا اس لیے میں اپنی جماعت کے لوگوں کو جو مختلف مقامات پنجاب ، ہندوستان میں موجود ہیں جو بفضلہ تعالیٰ کئی لاکھ تک اُن کا شمار پہنچ گیاہے۔ نہایت تاکید سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ میری اس تعلیم کو خوب یاد رکھیں جو قریباً چھبیس برس سے تقریری اور تحریری طور پر ان کے ذہن نشین کرتا آیا ہوں یعنی یہ کہ اس گورنمنٹ انگریزی کی پوری اطاعت کریں کیونکہ وہ محسن گورنمنٹ ہے ۔ اس کے ظل حمایت میں ہمارا یہ فرقہ احمدیہ چند سال میں لاکھوں تک پہنچ گیا ہے اور اس گورنمنٹ کا احسان ہے کہ اس کے زیر سایہ ہم ظالموں کے پنجہ سے محفوظ ہیں۔ خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت ہے کہ اُس نے اس گورنمنٹ کو اس بات کے لیے چُن لیا کہ تایہ فرقہ احمدیہ اس کے زیر سایہ ہو کر ظالموں کے خونخوار حملوں سے اپنے تئیں بچاوے اور ترقی کرے ۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان ِ روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ میں ہی اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہر گز نہیں۔ بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائو گے ۔ تم سُن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف صاحب جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے جب وہ میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اس قصور کی وجہ سے کہ وہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہوگئے تھے۔ امیر حبیب اللہ خاں نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا۔ پس کیا تمہیں اسے لوگوں سے کچھ توقع ہے کہ تمہیں ایسے سلاطین کے ماتحت کوئی خوشحالی میسر آئے گی۔ بلکہ تم تمام اسلامی مخالف علماء کے فتووں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔ سو خدا تعالیٰ کا یہ فضل اور احسان ہے کہ اس گورنمنٹ نے ایسا ہی تمہیں اپنے سایہ پناہ کے نیچے لے لیا جیسا کہ نجاشی بادشاہ نے جو عیسائی تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کو پناہ دی تھی میں اس گورنمنٹ کی کوئی خوشامد نہیں کرتا جیسا کہ نادان لوگ خیال کرتے ہیں نہ اس سے کوئی صلہ چاہتاہوں بلکہ میں انصاف اور ایمان کی رو سے اپنا فرض دیکھتاہوں کہ اس گورنمنٹ کی شکر گذاری کروں اور اپنی جماعت کو اطاعت کے لیے