لیکن کیا میری ہی فطرت ایسی ہو رہی ہے کہ میں چوبیس سال سے اس جھوٹ پر قائم ہوں اور برابر چل رہا ہوں اور خدا تعالیٰ بھی بالمقابل خاموش ہے ارو بالمقابل ہمیشہ تائیدات پر تائیدات کر رہا ہے۔پیشگوئی کرنا یا علم غیب سے حصہ پانا کسی ایک معمولی ولی کا بھی کام نہیں ۔یہ نعمت تو اس کو عطا ہوتی ہے جو حضرت احدیت مآب میں خاص عزت اور وجاہت رکھتا ہے۔اب دیکھ لیا جاوے کہ خد اتعالیٰ نے کس قدر پیشگوئیاں میرے ہاتھ پر پوری کیں۔براہین احمدیہ اور اس میں جو میرے آئندہ حالات درج ہیں ان کو دیکھ اجاوے اور پھر میرے آجکل کے حالات کو دیکھا جاوے کہ وہ تمام کس طرح پورے ہوئے۔پھر جو جو نشانات مسیح موعود کے زمانہ کے آثار ہیں، موجود ہیں۔وہ کس طرح اس زمانہ میں پورے ہو گئے۔رمضان میں کسوف خسوف کا ہونا۔ریل کا جاری ہو کر اونٹنیوں کا حجاز میں بھی بند ہو جانا، طاعون کا نمودار ہونا۔یہ سب علامات ہیں جو زمانہ مہدی کے ساتھ مختص ہیں۔یہ خدا تعالیٰ نے کیوں پورے کیے؟ کیا ایک کذات اور مفتری علی اﷲ کی رونق افزائی کے لیے جو چوبیس سال سے برابر افتراء باندھ رہا یہ۔آخر میں میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ عمر کا کوئی بھروسہ نہیں۔یہ وقت ہے اس کو غنیمت سمجھا جاوے۔یہ خد اتعالیٰ کے نشان ہیں۔ان سے منہ موڑنا خد اتعالیٰ کی حکم عدولی ہے۔دیکھو ایک مجازی حاکم کا پیادہ اگر آجاوے اور پیادہ جس حکم کو لاتا ہے اُس کی پروا نہ کی جاوے، تو پھر یہ حکم عدولی کیسے بدنتائج پیدا کرتی ہے۔؛چہ جائیکہ خدا تعالیٰ کی حکم عدولی۔دنیا میں جب کبھی کوئی خد اتعالٰٰ کا مرسل آوے گا وہ انسنا ہی ہوگا۔اس کے اوضاع و اطوار انسانوں والے ہی ہوں گے۔آخر فرشتہ کو تو نہیں آنا۔یہ لوگ اس کے لوازم انسانیت سے گھبرا جاتے ہیں اور اُن کی آنکھوں کے سمانے ایک حجاب ہے جو اس کے جامۂ نبوت کو چھپائے ہوئے ہے لیکن یہ حجاب ضروری ہے جس میں ہر ایک نبی مستور ہوتا ہے۔مبارک ہے وہ جو اس حجاب کے اندر اُس شخص کو دیکھ لے۔؎ٰ
ابتدائے جون ۱۹۰۴ء بمقام گورداسپور
تعدّد ازدواج۔مقصد اور حدود
ایک احمدی نے حضرت اقدس کی خدمت میں عرض کی کہ تعدّد ازدواج میں جو عدک کا حکم ہے کیا اس سے یہی