اس آیت پر خوب غور کرو ۔یہ ان کی دوبارہ آمد کو قطی طور پر ردّ کرتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ختمِ نبوت والی آیت بھی ان کو دوبارہ آنے نہیں دیتی ۔اب یا تو قرآن شریف کا انکار کر دیا اگر اس پر ایمان ہے تو پھر اس باطل خیال کو چھوڑنا پڑے گا اور اس سچائی کو قبول کرنا پڑے گا جو مَیں لے کر آیا ہوں ۔
یہ پکی بات ہے کہ آنے والا اسی اُمّت سے ہوگا اور حدیث
علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل
سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص مثیلِ مسیح بھی تو ہو ۔اگرچہ محدثین اس حدیث کی صحت پر کلام کرتے ہیں مگر اہلِ کشف نے اس کی تصدیق کی ہے اور قرآن شریف خود اس کی تائید کرتا ہے ۔محدثین نے اہلِ کشف کی یہ بات مانی ہوئی ہے وہ اپنے کشف سے بعض احادیث کی صحت کرلیتے ہیں جو محدثٰین کے نزدیک صحیح نہ ہوں اور بعض کو غیر صحیح قرار دے سکتے ہیں ۔
ٹائپ کرنے والا ہے