آواز کس طرح سُنتے ہیں اس سے انہوں نے سمجھ لیا کہ ہر چیز طبعاً اور فطرتاً اللہ تعالیٰ کی مطیع اور تابع فرمان ہے ۔
نووارد ۔ کیا آنحضرت ﷺ کے لیے قرآن شریف میں ایسا فرمایا ہے جیسے حضرت ابراہیم کو خلیل فرمایا۔
سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ؐ کو دیئے گئے
حضرت اقدس ۔ مَیں قرآن شریف سے یہ استباط کرتا ہوں کہ سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت ﷺ کو دیئے گئے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ اور فضائل مختلفہ جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے ۔قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے چناچہ فرمایا
فیھا کتب قیمۃ (البینہ :۴) اور مافر طنا فی الکتاب (الانعام :۳۹)
ایسا ہی ایک جگہ آنحضرت ﷺ کو یہ حکم دیا ہے کہ تمام نبیوں کی اقتدا کر ۔
یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ امر دو قسم کا ہوتا ہے ۔ایک امر تو تشریعی ہوتا ہے جیسے نماز قایم کرو یا زکوٰۃ دو وغیرہ اور بعض امر بطور خلق ہوتے ہیں جیسے
یا نار کونی بر دا و سلا ما علی ابراہیم (الانبیائ:۷۰)
یہ امر جو ہے کہ تو سب کی اقتدا کر یہ بھی خلقی اور کونی ہے یعنی تیری فطرت کو حکم دیا کہ وہ کملات کے جمیع انبیاء علیہ السلام میں متفرق طور پر موجود تھے ۔اس میں یکجائی طور موجود ہوں اور گویا اس کے داتھ جہی وہ کمالات اور خوبیوں آپ کی ذات میں جمع ہوگئیں۔
آیت خاتم النبیین کا حقیقی مفہوم
چناچہ ان خوبیوں اور کمالات کے جمع ہونے کا ہی نتیجہ تھاکہ آپ پر نبوت ختم ہوگئی اور یہ فرمایا کہ
ماکان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین (الاحزاب:۴۱)
ختمِ نبوت کے یہی معنے ہیں کہ نبوت کی ساری خوبیا اور کمالات تجھ پر ختم ہوگئے اور آئندہ کے لیے کمالاتِ نبوت کا باب بند ہوگیا اور کوئی نبی مستقل طور پر نہ آئے گا ۔
نبی عربی اور عبرانی دونوں زبانوں میں مشترک لفظ ہے جس کے معنے خدا سے خبر پانے والا اور پیشگوئی کرنے والا جولوگ براہ راست خدا سے خبریں پاتے تھے وہ نبی کہلاتے تھے اور یہ گویا اسطلاح ہوگئی تھی مگر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو بند کر دیا اور مُہر لگا دی ہے کہ کوئی نبی آنحضرتﷺ کی مُہر کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔جب تک آپ کی اُمّت میں داخل نہ ہو اور آلے فیض سے مستفیض نہ ہو وہ خدا تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف نہیں پا سکتا ۔جب تک آنحضرت ﷺ کی اُمّت میں داخل نہ ہو ۔اگر کوئی ایسا ہے کہ وہ بدوں اس میں داخل ہونے اور آ نحضرت ﷺ سے فیض پانے کے بغیر کوئی شفِ مکالمہ الٰہی حاصل کر سکتا ہے تو اسے میرے سامنے پیش کرو۔