بغیر دریافت کئے ماننا نہیں چاہا۔ دعا کے لیے میں نے جو لکھا تھا دنیا کی خواہش سے نہیں کہا تھا ۔ میں اس دادا کا پوتا ہں جسکے ہندوستان میں اڑھائی سو مرید ہیں مگر میں آزاد طبیعت آدمی ہوں اس اس میں انصاف ہے ۔ نیکی ضائع نہیں ہوتی حضرت اقدس سے آگییہ لکھنا ہے ایسا ہی ایک حدیث میں آیاہے کہ ایک صحابی ؓ نے پوچھا کہ مَیں نے زمانہ جاہلیت میں سخاوت کی تھی مجھے اس کا ثواب ملے گا یا نہیں ؟ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اُسی سخاوت نے تو تجھے مسلمان کیا ۔ ہزاروں آدمی بغیر دیکھے گالیاں دینے کو تیا ر ہوجاتے ہیں لیکن جب آتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو ایمان لاتے ہیں ۔میرا یہ مذہب نہیں کہ انسان صدق واخلاص سے کام لے اور وہ ضائع ہو جائے ۔ پھر حضرت حجتہ اللہ نے حضرت عمر ؓ کے ایمان لانے کا قصّہ بیان کیا جوکئی بار ہم نے الحکم میں درج کیا ہے اور اس بات پر آپ نے اپنی تقریر کو ختم کیا ؎ مردانِ خدا خدا نہ باشند لیکن از خدا جُدا نہ باشند (الحکم جلد ۷نمبر ۷ صفحہ ۵ تا ۹ مورخہ ۲۱ فروری ۱۹۰۳ء ؁) ۱۵ فروری ۱۹۰۳ئ؁ نووارد صاحب اور حضرت مسیح موعود علیہ السّلام صبح کی سَیر اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ علی الارض مسیح موعود علیہ الصّلوٰۃ و السلام کو یہ مقصود تھا کہ جس طرح ممکن ہو اس شحص کو پُورے طور پر تبلیغ ہو اس لیے اس کی ہر بات اور اہر ایک اعتراض کو نہایت توجہ سے سُنکر