نے فرمایا کہ جس کی چیز ہو اس کو ہی اٹھانی چاہئے اس سے یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ آپ لکڑیوں کا گٹھا بھی اٹھا کر لایا کرتے تھے غرض ان واقعات س ییہ ہے کہ آپ کی سادگی اور اعلیٰ درجہ کی بے تکلفی کا پتہ لگتا ہے آپؐ پاپیادہ ہی چلا کرتے تھے اس وقت یہ کوئی تمیز نہ ہوتی ھی کہ کوئی آگے ہے یا پیچھے۔جیسا کہ آت کے وضعدار لوگوں میں پایا جاتا ہے کہ کوئی آگے نہ ہونے پائے یہاں تک سادگی تھی کہ بعض اوقات لوگ تمیز نہیں کرسکتے تھے کہ ان میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو حضرت ابو بکر ؓ کی داڑھی سفید تھی لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ ہی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن جب حضرت ابو بکر ؓ نے اٹھ کر کوئی خادمانہ کام کیا اور اس طرح پر سمجھا دیا کہ آپ پیغمبرؐ ہیں تب معلوم ہوا۔؎ٰ بعض وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ دوڑے بھی ہیں ایک مرتبہ آپ آگے نکل گئے اور دوسری مرتبہ خود نرم ہو گئے تا کہ حضرت عائشاہ آگے نکل جائیں اور وہ آگے نکل گئیں اسی طرح پر یہ بھی ثابت ہے کہ ایک بار کچھ حبشی آئے جو تماشہ کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہؓ کو ان کا تماشاہ دکھایا اور پھر عمر حضرت ؓ جب آئے تو وہ حبشی ان کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ غرض جب انسان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو غور سے مطالعہ کرتا ہے تو اسے بہت کچھ پتہ ملتا ہے۔لیکن بعض احمق کورباطن ایسے بھی ہیں جو آپ کی زندگی پر تدبر تو کرتے نہیں اعتراض کرنے کے لئے زبان کھولتے ہیں یہ حال عیسائیوں اور آریوں کا ہے۔