ہری چیز کے مراتب ہوتے ہیں مثلاً کپڑا ہے تو کھدر ، ململ ، اورخاصہ لٹّھا محض کپڑا ہونے کی حیثیت سے تو کپڑا ہی ہیں اور اس لحاظ سے وہ سفید ہیں بظاہر ایک مساوات رکھتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ریشم بھی سفید ہوتا ہے لیکن کیا ہر آدمی نہیں جانتا کہ ان سب میں جدا جدا مراتب ہیں اور ان میں ایک فرق پایا جاتا ہے ۔
؎گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
پس جس طرح پر ہم سب اشیاء میں ایک اور فرق دیکھتے ہیں اسی طرح کلام میں بھی مدارج اور مراتب ہوتے ہیں ۔جبکہ آنحضرت کا کلام جو دوسرے انسانوں کے کلام سے بالا تر اور عظمت اپنے اندر رکھتا ہے اور ہر ایک پہلو سے اعجازی حدود تک پہنچتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کے برابر وہ بھی نہیں تو پھر اور کوئی کلام اس سے مقابلہ کر سکتا ہے ۔
یہ تو موٹا اور بدیہی بات ہے کہ جس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ قرآن شریف معجزہ ہے لیکن اسس کے اور بھی بہت سے وجوہ اعجاز ہیں خدا تعالیٰ کا کلام اس قدر خوبیوں کا مجموعہ ہے جو پہلی کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی ہیں۔
خاتم النبییّن کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے وہ بجائے خود یہ چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب ہے اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔
کیونکہ کلام الہٰی کے نزول کاعام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اس قدر قوت و شوکت اس کلا م کی ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلی درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا, اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے ا س اعلی مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات ِکمال آپؐ پر ختم ہوچکے تھے اؤر آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہوگئے آپ ؐ خاتم النبییّن ٹھہرے اور آپؐ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہو سکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپؐ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچي ہوئی ہے۔
یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت ، کیا باعتبار مضامین، کیا باعتبار تعلیم، کیا باعتبار کمالات تعلیم، کیا باعتبار ثمرا ت تعلیم۔ غرض جس پہلو سے دیکھو قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیر طلب کی ہے یعنی جس پہلو