اور خدا تعالیٰ پر سچا ایمان پیدا کرنے کی راہ دکھاتا ہوں یہی میرا مقصد ہے جس کو لے کر میں دنیا میں آیا ہوں میری دلی خواہش ہے کہ آپ اس کو سمجھ لیں اور خوب غور سے سمجھ لیں تا کہ جہاں کہیں آپ جائیں اوراپنے دوستوں میں بیٹھ کر اپنے سفر کے عجائبات سنائیں وہاں ان کو یہ باتیں بھی بتائیں جو میں نے آپ کو سنائی ہیں۔ مسٹر ڈکسن:’’ میں نے آپ کا مدعا خوب سمجھ لیا ہے اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جہاں کہیں میں جائوں گا میں یورپین لوگوں میں اس کا تذکرہ کروں گا‘‘۔ حضرت اقدسؑ: ہم نے تو آپ کا چہرہ دیکھ کر ہی سمجھ لیا تھا کہ آپ میں انصاف ہے ہماری دلی آرزو یہی تھی کہ آپ کچھ دنوں ہمارے پاس رہ جاتے تا کہ ہمیں پورا موقع ملتا کہ اپنے اصول آپ کو سمجھائیں اور آپ کو بھی غور کرنے اور بار بار پوچھنے کا موقع ملتا مگر تا ہم ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی غور کرنے والی طبیعت ضرور کچھ نہ کچھ فائدہ اٹھائے گی انسان کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا نمونہ یہی ہے کہ و ہ راستی کے قبول کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہے بہت سے امورا یسے ہوتے ہیں کہ انسان محض ماں باپ کی تقلید کی وجہ سے باوجودیکہ اس صریح نقص دیکھتا ہے نہیں چھوڑتا۔ لیکن جو شخص سچے اخلاق اور اخلاقی جرأ ت سے حصہ رکھتا ہے وہ ان باتوں کی کچھ پروا نہیں کرتا وہ صرف راستی کا خواہش مند ہے۔ بچپن میں دو قوتیں بڑی تیز ہوتی ہیں اول ہر ایک چیز اندر چلی جاتی ہے دوم خوب یاد رہتی ہے بجہ کبھی دلائل نہیں پوچھتا کہ کیوں یہ بات ہے مگر اصل شجاعت یہی ہے کہ ان باتوں کو شیر مادر کی طرح پیتا ہے جب اسے معلوم ہو جاوے کہ ان حقیقت اور معرفت کا رنگ اور قوت نہیں ہے تو انہیں چھوڑنے کے لئے فی الفور تیار ہو جاوے تمام قوی کا بادشاہ انصاف ہے اگر یہ قوت ہی انسان میں مفقود ہے تو پھر سب سے محروم ہونا پڑتا ہے ۔انسان دنیا میں اس لئے نہیں آیا کہ وہ باطل کا ذخیرہ جمع کرے بلکہ اسے حقیقت شناس اور حق پرست ہونا چاہئیے۔دنیا میں چونکہ باطل ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ باطل پرست اسے سچ سے بھی زیادہ چمکدار دکھانا چاہیں مگر دانشمند کو دھوکا نہیں کھانا چاہئیے اس کو لازم ہے کہ سچائی کو پورے طور پر پرکھے اور پھر قبول کرے۔ میرے نزدیک تمام مذاہب کا اس وقت یہ حال ہے کہ گویا کل مذاہب کا ایک میدان لگا ہوا ہے اور ہر ایک بجائے خود کوشش کرتا ہے کہ اپنے مذہب کو سچا دکھائے مگر میں کہتا ہوں کہ روحانیت کو دیکھو کہ کس میں ہے اور تائیدی نشان کون اپنے ساتھ رکھتا ہے اور کون سا مذہب ہے جو گناہ کے کیڑے کو ہلاک کرنے کی قوت رکھتا ہے میں آپ کو اپنے تجربہ کی بنا ء پر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ سچی معرفت جس کی گرمی سے گناہ سے کیڑا ہلاک ہوتاہ اسلام میں ملتی ہے اور کہ خدا تدعالی کی جس کی گرمی سے گناہ کاکیڑا ہلاک ہوتا ہے اسلام میں ملتی ہے اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کسی کے خون سے اس کیڑی کو موت آوے بلکہ خون پڑ کر تو اور