اس جہان میں بدمعاشیاںکولو، آگے دیکھاجائے گا۔ اس قسم کے لوگ روٹی، بے قیدی اور آرام کی زندگی عیسائیت ہی میں پاسکتے ہیں۔ اُن کے لیے کوئی ضروری امرنہیں۔ خواہ دس برس تک بھی غُسلِ جنابت نہ کریں۔ پس ان لوگوں کو جو عیسائی ہوئے ہیں دیکھ کر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ دہریہ منش جومرتد ہوئے ہیں، اگر عیسائی نہ ہوتے تو باطنی طور پر بھی تو مرتد ہی تھے۔ چارقسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک ازلی کافر جو بے قیدی اور اباحت کی زندگی کو چاہتے ہیں۔ اور تین قسم کے مومن ظالم لنفسہٖ، مقتصد۔ سابق بالخیرات ۔ پہلی قسم کے مومن وہ ہیں جو ظالم ہیں، یعنی ان پر کچھ جذباتِ نفس غالب آجاتے ہیں۔ دپوسرے میانہ رواور تیسرے خیرِ مجسم۔ اب ازلی کافر جو نفس کے غلام اور بندے ہیں۔ جن کی غرض و غایت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ بے قیدی کی زندگی بسر ہو اور روپیہ بھی برباد ہو۔ اُن کو اسلام سے کیا مناسبت، وہ تو عیسائیت کو پسند کریں گے کہ تنخواہ مل جائے اور کسی چیز کی ضرورت نہ رہے۔ اگر جائیں گے ، تو وہاں بھی محض اس غرض سے کہ صدہا خوبصورت عورتیں اچھے لباس پہن کر جاتی ہیں۔ وہاں بدنظری کے لئے جابیٹھے۔ غرض اس قسم کی اباحتی زندگی والوں کو اسلام سے کوئی مناسبت ہوہی نہیں سکتی۔ حضرت ابوبکر ؓ اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں اُس زمانہ میں بھی مسیلمہ نے اباحتی رنگ میں لوگوں کو جمع کررکھا تھا۔ ایسے وقت میں حضرت ابوبکر ؓ خلیفہ ہوئے تو انسان خیال کرسکتا ہے کہ کس قدر مشکلات پیداہوئی ہوں گی۔ اگر وہ قومی دِل نہ ہوتا اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایمان رنگ اُس کے ایمان میں نہ لاتا، تو بہت ہی مشکل پڑتی اور گھبراجاتا، لیکن صدیق ؓ نبی ؐ کا ہم سایہ تھا۔ آپ کے اخلاق کا اثراس پر پڑا ہوا تھا اور دل نورِ یقین سے بھرا ہوا تھا۔ اس لیے وُہ شجاعت اور استقلال دکھایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اُس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ اُن کی زندگی اسلام کی زندگی تھی۔ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ اس پر کسی لمبی بحث کی حاجت ہی نہیں۔ اُس زمانہ کے حالات پڑھ لو اور پھر جو اسلام کی خدمت ابوبکر رضی اللہ عنہ‘ نے کی ہے، اس کااندازہ کرلو۔ مَیں سچ کہتاہوں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں۔مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوبکرؓ کا وجود نہ ہوتا ، تو اسلام بھی نہ ہوتا۔ ابوبکر صدیق ؓ کا بہت بڑااحسان ہے کہ اُس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔اپنی قوتِ ایمانی سے کُل باغیوں کو سزادی۔ اور امن کو قائم کردیا۔ اسی طرح پر جیسے خداتعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ مَیں سچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔ یہ پیشگوئی حضرت صدیق ؓ کی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔ پس یہ صدیق کی تعریف ہے کہ اُس میں صدق اس مرتبہ اور کمال کا ہونا چاہیے۔ نظائر سے مسائل بہت جلد حل ہوجاتے ہیں۔