آدؔ می مخلوق پرستی سے ہلاک نہ ہوتے۔ دیانند نے جس قدر وید کی حمایت میں تکلّفات کئے ہیں وہ سب بیہودہ اور لچر ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ دیانند نے اصلی وید کی طرف آرین لوگوں کو رجوع نہیں دلایا بلکہ اُس نے زمانہ کی ہوا کو دیکھ کر ایک نیاوید بناکر پیش کیا ہے چونکہ کئی کروڑ ہندو وید سے بیزار ہوکر مسلمان ہوچکے تھے اِس لئے اُس نے خواہ نخواہ وید میں توحید کو دِکھلانا چاہا۔ سواِس بات کے ثابت کرنے سے وہ نامراد مرا۔ وید کی حالت آزمانے کے لئے سہل طریق یہ ہے کہ ایک تحت اللفظ ترجمہ اُس کا جس میں بطور شرح اپنی طرف سے کوئی فقرہ نہ ملایا جائے کسی غیر قوم کی طرف بھیج دو تو پھر اُن کو پوچھ کر دیکھ لو کہ وید کی ان عبارتوں سے توحید ثابت ہوتی ہے یا مخلوق پرستی۔
اور پھر ہم اپنے مضمون کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ ہماری اس تمام تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ خیال کہ صرف ابتدائے آفرینش میں ہی الہامی کتاب انسانوں کو دی گئی ہے بعد میں کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔ یہ خیال جیسا کہ ثابت شدہ واقعات کے برخلاف ہے ایسا ہی عقل کے بھی برخلاف ہے کیونکہ انسان اللہ تعالیٰ کے جسمانی قانون قدرت کو بھی دیکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ نوع انسان ہمیشہ اپنی موجودہ حالت کے موافق ہر ایک زمانہ میں خدا کی تربیت کی محتاج ہے کیونکہ اگر موجودہ حالت میں کوئی ایسی تبدیلی پیدا ہو جائے کہ جو پہلے زمانہ میں نہیں تھی تو کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کی تربیت اس تبدیلی کے موافق ہونی چاہیئے۔ مثلاً تم غور کرلو کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت سے اُس زمانہ تک کہ وہ جوان ہوتا ہے کس قدر تبدیلیاں اُس کی خوراک اور پوشاک میں ظہور میں آتی ہیں اور پھر جب انسانی بدن صحت سے منحرف ہوکر طرح طرح کے امراض میں گرفتار ہو جاتا ہے تو کس قدر نئی اور خاص تدبیریں عمل میں لانا مقتضائے ہمدردی ہوتا ہے یہی حال انسان کی رُوحانی حالت کا ہے اور جیسا کہ انسان اُس روٹی سے جی نہیں سکتا کہ کسی وقت اُس نے پہلے زمانہ میں کھائی تھی بلکہ ہمیشہ اُس کو بھوک کے وقت ایک تازہ روٹی کی ضرورت ہے ایسا ہی انسان کو ضرورت کے زمانہ میں تازہ وحی اور الہام کی ضرورت ہے