ہےؔ اور بعض ہندو سانپوں کی بھی پرستش کرتے ہیں۔ اور ایک قسم کی نہایت گندی پوجا بھی کرتے ہیں جس کو لِنگ پوجا کہتے ہیں اور کالیستھ قوم کے پڑھے لکھے ہندو قلم کی پوجا کرتے ہیں ایسا ہی اور کئی قسم کی پوجا ہیں جو اس قوم میں پائی جاتی ہیں جیسا کہ ہندوؤں نے بہت سے دیوتا بھی بنا رکھے ہیں کہ شایدتینتیسکروڑ یا اس سے بھی زیادہ ہیں ان سب کی پوجا ہوتی ہے اور اس میں صرف عوام ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے پنڈت اور عالم فاضل ہندو مذہب کے قریباً سب کے سب مخلوق پرست ہیں۔ یہ تو وہ اعمال ہیں جن میں خدا کا حق مخلوق کو دیا گیا ہے۔ ماسوا اس کے ہندوؤں میں قومی تفریق اس قدر ہے کہ ایک قوم دوسری قوم کو نہایت تحقیر سے دیکھتی ہے برادرانہ ہمدردی کا نام و نشان نہیں۔ ایک ہندو دوسرے ہندو کو بغیر سُود کے قرضہ نہیں دے سکتا اور باہمی اختلاط کا یہ حال ہے کہ ایک ہندو دوسرے ہندو ادنیٰ قوم کو کُتے کی طرح سمجھتا ہے۔ کیا مجال کہ اُس کا پس خوردہ کھا سکے بلکہ کتوں کے پس خوردہ میں بھی کچھ مضائقہ نہیں دیکھتے۔ اور جو ادنیٰ ذات کے ہندو ہیں جیسے حجام۔ نجار۔ زرگر وغیرہ وہ نہایت ذلیل سمجھے جاتے ہیں۔ اور شاستروں کے رُو سے اگر وہ برہمن کا مقابلہ کریں تو ان کی جان کی خیر نہیں۔ اور اگر مقابلہ کے وقت کچھ بولیں تو اُن کی زبان کاٹ دی جاوے۔ اور اگر برابری کریں تو جان سے مارے جائیں اور برہمنوں کو وہ حق دئیے گئے ہیں کہ دوسری قوموں کو وہ حق حاصل نہیں ہیں یہاں تک کہ نیوگ کے بیرج داتا بھی برہمن ہی قرار دئیے جاتے ہیں۔ یہ حکم ہے کہ اگر کسی کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو تو وہ اپنی عورت کو برہمن سے ہمبستر کراوے۔ اور وید کا پڑھنا پڑھانا بھی برہمنوں سے خاص ہے اگر دوسری قومیں وید کو پڑھیں تو اُن کے لئے سخت سزائیں مقرر ہیں۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ تا وید برہمنوں کے ہی ہاتھ میں رہے اوروہ جو کچھ چاہیں بیان کردیا کریں اور دوسرے لوگ اُن کی چالاکیوں پر اطلاع نہ پاویں بلکہ وہ سب ان کے دست نگر رہیں۔ پس وید کے اِس نمونہ سے ظاہرہے کہ ایک مدت گذرنے کے بعد کس قدر