غفلت کی حالت میں اس پر ڈاکہ مارنا چاہتے ہیں۔ پس جو شخص اُس کی سنتا ہے وہ اپنا مال اُن ڈاکوؤں کی دست برد سے بچا لیتا ہے۔ اور جو نہیں سنتا وہ غارت کیا جاتا (ہے)۔ ہمارے وقت میں دو قسم کے ڈاکو ہیں۔ کچھ تو باہر کی راہ سے آتے ہیں اور کچھ اندر کی راہ سے اوروہی مارا جاتا ہے جو اپنے مال کو محفوظ جگہ میں نہیں رکھتا۔ اس زمانہ میں ایمانی مال کے بچانے کے لئے محفوظ جگہ یہ ہے کہ اسلاؔ م کی خوبیوں کا علم ہو۔ اِسلام کی قوتِ رُوحانی کا علم ہو۔ اسلام کے زندہ معجزات کا علم ہو اور اُس شخص کا علم ہو جو اِسلامی بھیڑوں کے لئے بطور گلہ بان مقرر کیا جائے۔ کیونکہ پرانا بھیڑیا اب تک زندہ ہے وہ مرا نہیں ہے۔ وہ جس بھیڑ کو اُس کے چرانے والے سے دُور دیکھے گا وہ ضرور اُس کو لے جائے گا۔ اے بندگانِ خدا ! آپ لوگ جانتے ہیں کہ جب امساک باران ہوتا ہے اور ایک مُدّت تک مینہ نہیں برستا تو اس کا آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئیں بھی خشک ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ پس جس طرح جسمانی طور پر آسمانی پانی بھی زمین کے ہاتھوں میں جوش پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح رُوحانی طور پر جو آسمانی پانی ہے یعنی خدا کی وحی۔ وہی سفلی عقلوں کو تازگی بخشتا ہے۔ سو یہ زمانہ بھی اس رُوحانی پانی کا محتاج تھا۔ میں اپنے دعویٰ کی نسبت اِس قدر بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں عین ضرورت کے وقت خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔ جبکہ اس زمانہ میں بہتوں نے یہود کا رنگ پکڑا۔ اور نہ صرف تقویٰ طہارت کو چھوڑا بلکہ ان یہود کی طرح جو