3 ۱؂ یعنی بدی کا بدلہ اسی قدر بدی ہے جوکی جائے۔ جیسا کہ توریت کی تعلیم ہے۔ مگر جو شخص عفو کرے جیسا کہ انجیل کی تعلیم ہے۔ تو اِس صورت میں وہ عفو مستحسن اور جائز ہوگی جبکہ کوئی نیک نتیجہ اس کا مرتب ہو۔ اور جس کو معاف کیا گیا کوئی اصلاح اس کی اس عفو سے متصور ہو۔ ورنہ قانون یہی ہے جو توریت میں مذکور ہے۔