رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں او راپنے رسالوں اور کتابوں اور اشتہاروں میں نہایت توہین سے اُن کا نام لیتے ہیں اور نہایت گندے الفاظ سے اُن کو یاد کرتے ہیں۔ آپ یاد رکھیں کہ ایسے لوگ اپنی قوم کے بھی خیر خواہ نہیں ہیں کیونکہ وہ اُن کی راہ میں کانٹے بوتے ہیں۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر ہم جنگل کے سانپوں اور بیابانوں کے درندوں سے صلح کرلیں تو یہ ممکن ہے مگر ہم ایسے لوگوں سے صلح نہیں کرسکتے جو خدا کے پاک نبیوں کی شان میں بدگوئی سے باز نہیں آتے وہ سمجھتے ہیں کہ گالی اور بدزبانی میں ہی فتح ہے مگر ہر ایک فتح آسمان سے آتی ہے۔ پاک زبان لوگ اپنی پاک کلام کی برکت سے انجام کار دلوں کو فتح کر لیتے ہیں مگر گندی طبیعت کے لوگ اِس سے زیادہ کوئی ہنر نہیں رکھتے کہ ملک میں مفسدانہ رنگ میں تفرقہ اور پھوٹ پیدا کرتے ہیں۔ کاش اگر دنیا کے لوگ ایسے اصول کے پابند ہوتے جو قرآن شریف نے پیش کیا ہے تو یہ ملک برکتوں سے بھر جاتا مگر یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ اِس اصول کو پسند نہیں کیا جاتا۔ آج آسمان کے نیچے صرف ایک ہی کتاب ہے جو اس اصول پر زور ڈالتی ہے کہ جن جن نبیوں او رسولوں کو دنیا کی قومیں صادق مانتی چلی آئی ہیں اور خدا نے عظمت اور قبولیت اُن کی دنیا کے بڑے بڑے حصوں میں پھیلا دی ہے وہ درحقیقت خدا کی طرف سے ہیں۔ زبان خلق نقارہِئخدا ایک مشہور مثل ہے۔ پس جبکہ خدا نے کروڑوں انسانوں کے دلوں میں یہی الہام کیا کہ وہ لوگ سچے ہیں اور نہ صرف اس قدر بلکہ خارق عادت کے طور پر اُن کی نصرت اورمدد بھی کی تو یہ ایک قوی دلیل اِس بات پر ہے کہ درحقیقت وہ خدا کے دوست ہیں اور اُن کی توہین خدا کی توہین ہے۔ اور تجربہ بھی شہادت دیتا ہے کہ ایسے بدزبان لوگوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا