مورکھ اور نادان ہے کہ جہالت اور نادانی میں دنیا میں کوئی اس کی نظیر نہیں ایک شخص جو کسی کے باپ کو گندی گالیاں دیتا ہے اور پھر چاہتا ہے کہ اُس کا بیٹا اس سے خوش ہو یہ کیونکر ہوسکتا ہے۔ جو لوگ محض زبان سے کسی قوم کے ساتھ صلح کرنے کے لئے زور دیتے ہیں اُن کو چاہیئے کہ صلح کاری کے کام بھی دکھلائیں۔ اے ہم وطن پیارو! میری اِس بات پر غور کرو اور یوں ہی نہ پھینک دو جبکہ ہم ایک ہی ملک میں رہتے ہیں چاہیئے کہ باہم ایسی محبت کریں کہ ایک دوسرے کے اعضاء ہو جائیں مگر یہ بھی یاد رکھو کہ اگر منافقانہ طور پر محبت ہو تو وہ محبت نہیں ہے بلکہ وہ ایک زہریلہ تخم ہے جو بعد میں اپنا مہلک پھل دکھلائے گا۔ صلح کاری بہت عمدہ چیزؔ ہے مگر بدزبانی اور صلح کاری دونوں ہرگز جمع نہیں ہوسکتے۔ پس اے صاحبان ! کیا آپ لوگ اِس بات کے لئے طیار ہیں یا نہیں کہ صلح کی بنیاد ڈالنے کے لئے اِس پاک اصول کو قبول کرلیں کہ جیسے ہم سچے دل سے آپ کے بزرگ رشیوں اور اوتاروں کو صادق جانتے ہیں جن پر آپ کی قوم کے کروڑہا لوگ ایمان لاچکے ہیں اور اُن کے نام عزت سے زبانوں پر جاری ہیں۔
ایسا ہی آپ لوگ بھی صدق دل سے اِس کلمہ پر ایمان لے آئیں کہ
لَااِلٰہ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ
تا جس اتحاد اور صلح کے لئے ہم نے قدم اُٹھایا ہے اُس میں آپ بھی شریک ہوکر اُس تفرقہ کو دور کردیں جو ملک کو کھاتا جاتا ہے۔ ہم آپ سے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کرتے جس سے ہم نے پہلے خود حصہ نہیں لیا۔ اور ہم آپ سے کوئی ایسا کام کرانا نہیں چاہتے جو ہم نے آپ نہیں کیا۔ سچی صلح اور کینوں کے دور کرنے کے لئے صرف اِس قدر کافی ہے کہ جیسا کہ ہم آپ کے بزرگ اوتاروں اوررشیوں کو صادق مانتے ہیں اِسی طرح آپ بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق مان لیں اور اس اقرار کا آپ ہماری