سے الگ ہوجاتے تو پھر اُن کے تعلقات ہندوؤں سے منقطع ہوجاتے اور اُن کی روحانی تاثیر صرف اُنہیں کی ذات تک محدود رہتی مگر اب اُن کی رُوحانی تاثیر نے وہ کام کیا ہے کہ بیس لاکھ ہندو بنام نہاد سکھ اُن کے تابع ہیں اور وہ زمانہ قریب ہے کہ جب تعلیم کے ذریعہ سے اُن کی عقل اور فکر میں ترقی ہوگی تو وہ اپنے ایسے مرشد کامل کے مذہب سے علیحدگی پسند نہیں کریں گے۔
اور باوا نانک صاحب کی معرفت سے بھری ہوئی ہدایتیں یہ ہیں
شلوک گرنتھ صاحب سے
دوزخ پوندے کیوں رہیں؟ جاں چت نہ آوے رسول
ترجمہ۔ وہ لوگ ضرور دوزخی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم پرعمل نہیں کرتے۔
شلوؔ ک گرنتھ صاحب سے
ہوئے مسلم دین مہانے مرن جیون کا بھرم چکانے
ترجمہ۔ اے غافل صدق دل سے مسلمان ہو جا پھر تجھے نجات ابدی حاصل ہوگی۔
شلوک جنم ساکھی*بھائی بالا والی صفحہ ۱۷۲
کلمہ اک پکار یا دُوجا ناہیں کوئی
ترجمہ۔ میں نے ایک ہی کلمہ لا الٰہ الَّااللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ کا وِرد کیا ہے دوسرا کوئی ذریعہ نجات نہیں۔
جنم ساکھی بھائی بالا والی صفحہ ۲۷۱
ہندو کہن ناپاک ہے دوزخ جاون سوئی کہدو اللہ اور رسول کو اور نہ بوجھو کوئی
ترجمہ۔ ہندو اللہ اور اس کے رسول کی شان میں ناپاک لفظ کہتے ہیں تحقیق وہی دوزخی ہیں سچے دل سے اقرار کرلو کہ اللہ اور رسول برحق ہیں اور اُس کے سوا اور کچھ نہ بوجھو۔
* یہ جنم ساکھی کیکسٹن پریس انار کلی لاہور کی طبع شدہ ہے۔ جو تیسری بار چھپی ہے۔