مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَـكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْمِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍؕ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُۚ فَاِنْ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَآءُ فِىْ الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَاۤ اَوْ دَيْنٍۙ غَيْرَ مُضَآرٍّۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِؕ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌؕ۔۔الجزو نمبر۴ سورۃ النساء ۔ ترجمہ۔ مردوں کے لئے اُس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ ایسا ہی عورتوں کے لئے اس جائیداد میں سے ایک حصہ ہے جو ماں باپ اور قرابتی چھوڑ گئے ہوں۔ اس میں سے کسی کا حصہ تھوڑا ہو یا بہت ہو بہرحال ہر ایک کے لئے ایک حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ اور جب ترکہ کے تقسیم کے وقت ایسے قرابتی لوگ حاضر آویں جن کو حصہ نہیں پہنچتا۔ ایسا ہی اگر یتیم اور مسکین بھی تقسیم کے موقع پر آجاویں تو کچھ کچھ اس مال میں سے اُن کو دے دو اور اُن سے معقول طور پر پیش آؤ یعنی نرمی اور خلق کے ساتھ پیش آؤ ۔اور سخت جواب نہ دو۔ اور وارثان حق دار کو ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ مرتے تو اُن کے حال پر اُن کو کیسا کچھ ترس نہ آتا اور کیسی وہ اُن
کی کمزوری کی حالت کو دیکھ کر خوف سے بھر جاتے پس چاہئے کہ وہ کمزور بچوں کے ساتھ سختیؔ کرنے میں اللہ سے ڈریں اور اُن کے ساتھ سیدھی طرح بات کریں یعنی کسی قسم کے ظلم اور حق تلفی کا ارادہ نہ کریں۔ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق خورد برد کرتے ہیں وہ مال نہیں کھاتے بلکہ آگ کھاتے ہیں۔ تمہاری اولاد کے حصوں کے بارے میں خدا کی یہ وصیت ہے کہ لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا کرو*۔ پھر اگر لڑکیاں دو یا دو سے بڑھ کر ہوں تو جو کچھ مرنے والے نے چھوڑا ہے اُس مال میں سے اُن کا حصہ تہائی ہے اور اگر لڑکی اکیلی ہو تو وہ مال متروکہ میں سے نصف کی مستحق ہے اور میّت کے ماں باپ کو یعنی دونوں میں سے ہر ایک کو اس مال میں سے جو میّت نے چھوڑا
* یہ اس لئے ہے کہ لڑکی سسرال میں جا کر ایک حصہ لیتی ہے پس اس طرح سے ایک حصہ ماں باپ کے گھر سے پاکر اور ایک حصہ سسرال سے پاکر اس کا حصہ لڑکے کے برابر ہوجاتا ہے ۔ منہ