۱ الجزو نمبر ۱۵ سورۃ بنی اسرائیل (ترجمہ) تیرے ربّ نے یہ حکم کیاہے کہ تم فقط میری ہی پرستش کرو او ر ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں پس تو اُن کی نسبت کوئی بیزاری کا لفظ منہ پر مت لا اور اُن کو مت جھڑک اور سخت لفظ مت بول اور جب تو اُن سے بات کرے تو تعظیم اور ادب سے کر اور مہربانی کی راہ سے اُن دونوں کے آگے اپنے بازو جھکا دے اور دعا کرتا رہ کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ انہوں نے بچپن کے زمانہ میں رحم کرکے میری پرورش کی۔ اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے 33333۲ (الجزو نمبر۲ سورۃ البقرہ) ترجمہ۔ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جس وقت تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاوے تو اگر اُس نے کچھ مال چھوڑا ہے تو چاہئے کہ ماں باپ کے لئے اس مال میں سے کچھ وصیت کرے ایسا ہی خویشوں کے لئے بھی معروف طورپر جو شرع اور عقل کے رُو سے پسندیدہ
ہے اور مستحسن سمجھا جاتا ہے وصیت کرنی چاہئے یہ خدا نے پرہیز گاروں کے ذمہ ایک حق ٹھہرادیاہے جس کو بہرحال ادا کرنا چاہئے یعنی خدا نے سب حقوق پر وصیت کو مقدم رکھا ہے اور سب سے پہلے مرنے والے کے ؔ لئے یہی حکم دیا ہے کہ وہ وصیت لکھے۔ اور پھر فرمایا کہ جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمداً مرتکب ہوں۔ تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے اور پھر فرمایا کہ جس شخص کو یہ خوف دامنگیر ہوا کہ وصیت کرنے والے نے کچھ کجی اختیار کی ہے یعنی بغیر سوچنے سمجھنے کے کچھ غلطی کر بیٹھا ہے یا کسی گناہ کا مرتکب ہوا ہے یعنی عمداً کوئی ظلم کیا ہے اور اُس نے اس بات پر اطلاع پاکر جن کے