وہ صحیح اور درست ہیں لیکن قبل اِس کے ہم اِس قدر تحریر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ تمام نشانیاں الہامی کتاب کی اپنے عقیدہ کو پیش نظر رکھ کر اس نے لکھی ہیں مثلاً چونکہ بغیر کسی دلیل کے ہندوؤں کا یہ خیال ہے کہ وید ابتدائے آفرینش میں پر میشر کی طرف سے آیا ہے۔ پس مضمون پڑھنے والے نے اپنے مذہب کی فتح مدّنظر رکھ کر الہامی کتاب کے لئے یہ ایک نشانی ٹھہرا دی کہ وہ ابتدائے آفرینش میں ہو۔ اور چونکہ اُس نے دیکھا کہ وید میں کوئی ذکرمعجزات اور پیشگوئیوں کا نہیں اور صرف معمولی باتیں اس میں درج ہیں جومعمولی انسان سے ہو سکتی ہیں اور جو انبیاء علیہم السلام فوق العادت نشان دکھلایا کرتے ہیں اُن نشانیوں کاوید میں نام و نشان نہیں سو اُس نے وید کی حالت کو مدّنظر رکھ کر یہ دوسری علامت الہامی کتاب کی
ٹھہرادی کہ وہ قانون قدرت کے مخالف نہ ہو یعنی جو کچھ عام انسانوں کے لئے خدا تعالیٰ معمولی رنگ میں اپنے افعال ظاہرکرتا ہے اس سے بڑھ کر اس کتاب میں کچھ نہ ہو گویا خدا کاقانون قدرت صرف اس حد تک ہے جوعام لوگوں کے ساتھ پایاجاتا ہے حالانکہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے قانون قدرت دو قسم کے ہیں۔ عام لوگوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے اور خاصوں کے ساتھ اور قانون قدرت ہے۔ چنانچہ آریہ مضمون پڑھنے والا خود اس بات کا ا قراری ہے کہ جو الہام چار رشیوں پر ہوا وہ دوسروں کو نہیں ہوسکتا گو کیسے ہی پاک اور پوتّر ہو جائیں۔ پس اپنے اس عقیدہ کی رُو سے وہ خود مانتا ہے کہ خدا کا ایک ہی رنگ کا قانون قدرت نہیں ہے اور فی الواقع سچی اور کامل معرفت کی رُو سے یہی ثابت ہوگیا ہے کہ انسانوں کے بارہ میں خدا تعالیٰ کا قانون قدرت ایک قسم کا نہیں بلکہ جس درجہ پر انسان کی حالت ہے اُسی درجہ پر خدا کا قانون قدرت اس کی نسبت ہوتا ہے۔ ایک وہ لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی کچھ بھی پروا نہیں رکھتے اور ہر ایک قسم کی معصیت دلیری سے کر لیتے ہیں گویا اُن کے نزدیک خدا نہیں ہے اور ایک وہ لوگ ہیں جو خدا کی اطاعت اور محبت میں مر ہی رہتے ہیں اور خدا کی رضا جو ئی کے لئے آگے سے آگے قدم رکھتے