کسی گھاس پات پر دو ٹکڑے ہوکر گری ہو یعنی ایک ٹکڑہ اُس کا تو لاہور میں گرا۔ دوسرا ٹکڑہ کلکتہ میں۔ کیونکہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں روحانی اخلاق بچہ کے ماں اور باپ کے اخلاق میں مشترک ہوتے ہیں اور یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہوکر گری اور یہ امر باطل ہے۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ روح کا شبنم کی طرح گرنا بھی باطل اور جھوٹ ہے۔
واضح ہو کہ یہ ایک وید کا ایسا مسئلہ ہے جس سے تمام وید جھوٹا ٹھہرتا ہے کیونکہ موجودہ وید کا تمام مدار آواگون یعنی جونوں پر ہے اور اسی آواگون یعنی تناسخ کی رُو سے ماننا پڑتا ہے کہ دُنیا کے تمام چرند۔ پرند۔ درند اور تمام کیڑے مکوڑے انسان ہی ہیں اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ جاودانی مکتی غیر ممکن ہے اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ کسی کی توبہ قبول نہیں ہوتی اور گناہ نہیں بخشے جاتے۔ اور اسی آواگون کی رُو سے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ روحوں کو خدا نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ سب خدا کی طرح قدیم اورانادی ہیں۔ غرض تناسخ کا مسئلہ تمام وید کا خلاصہ ہے اور یہ ایسا ستون ہے جس کے سہارے سے تمام عقاید وید کے کھڑے ہیں اور اُس کے ٹوٹنے سے تمام اصول وید کے ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تناسخ جو اصل جڑھ آواگون کی ہے صرف اِسی بنا پر یہ قائم رہ سکتا ہے کہ جبکہ بقول دیانند یہ بات ثابت ہو جائے کہ رُوح بدن سے نکل کر اکاش میں چڑھ جاتی ہے اور پھر شبنم کی طرح کسی گھاس پات پر پڑتی ہے مگر جیسا کہ ہم ابھی لکھ چکے ہیں یہ بات بکلّی محال ہے اور اس سے لازم آتا ہے کہ روح دو ٹکڑے ہوکر گری۔ ماسوا اس کے ایک اور پختہ دلیل اِس بات پر یہ ہے کہ جیسا کہ روح کا گرنا اِس طرح سے مستلزم محال ہے کہ اس سے روح کا دو ٹکڑے ہونا لازم آتا ہے ایسا ہی اس طرح سے بھی مستلزم محال ہے کہ وہ واقعات ثابت شدہ کے مخالف ہے کیونکہ ثابت شدہ واقعات یقینی اور قطعی طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ خود نطفہ مرد اور