اور نہایت دیانت اورتدبّر سے اُن کے اُصول میں غور کی۔ مگر سب کو حق سے دور اور مہجور پایا۔ ہاں یہ مبارک مذہب جس کا نام اسلام ہے وہی ایک مذہب ہے جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ اور وہی ایک مذہب ہے جو انسانی فطرت کے پاک تقاضاؤں کو پورا کرنے والا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ وہ ہر ایک بات میں کمال کو چاہتا ہے۔ پس چونکہ انسان خدا تعالیٰ کے تعبدِ ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اِس لئے وہ اِس بات پر راضی نہیں ہو سکتا کہ وہ خدا جس کی شناخت میں اُس کی نجات ہے اُسی کی شناخت کے بارے میں صرف چند بیہودہ قصوں پر حصر رکھے اور وہ اندھا رہنا نہیں چاہتا بلکہ چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفاتِ کاملہ کے متعلق پورا علم پاوے گویا اُس کو دیکھ لے۔ سو یہ خواہش اُس کی محض اسلام کے ذریعہ سے پوری ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بعض کی یہ خواہش نفسانی جذبات کے نیچے چُھپ گئی ہے اور جو لوگ دنیاکی لذّات کو چاہتے ہیں اور دنیا سے محبت کرتے ہیں وہ بوجہ سخت محجوب ہونے کے نہ خدا کی کچھ پروا رکھتے ہیں اور نہ خدا تعالیٰ کے وصال کے طالب ہیں۔ کیونکہ دنیا کے بُت کے آگے وہ سرنگوں ہیں۔ لیکن اس میں کچھ شک نہیں کہ جو شخص دنیا کے بُت سے رہائی پائے اور دائمی اور سچی لذّت کا طالب ہو وہ صرف قصّوں والے مذہب پر خوش نہیں ہو سکتا اورنہ اُس سے کچھ تسلّی پا سکتا ہے ایسا شخص محض اِسلام میں اپنی تسلّی پائے گا۔ اِسلام کا خدا کسی پر اپنےؔ فیض کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ اپنے دونوں ہاتھوں سے بُلا رہا ہے کہ میری طرف آؤ اور جو لوگ پورے زور سے اس کی طرف دوڑتے ہیں اُن کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے۔
سو مَیں نے محض خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہُنر سے اِس نعمت سے کامل حصّہ پایا ہے جو مُجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔ اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر مَیں اپنے سیّد و مولیٰ فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے راہوں کی پیروی نہ کرتا۔ سو میں نے جو کچھ پایا۔ اُس پیروی سے پایا اور مَیں اپنے سچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان