خواہش اور شراب خواری اور قمار بازی اور بد نظری اور ناجائز تعلقات عیسائی قوم میں بڑھ گئے کہ جیسے ایک خونخوار اور تیز رَو دریا پر جو ایک بند لگایا گیا تھا وہ بندیک دفعہ ٹوٹ جائے اور اِرد گرد کے تمام دیہات اور زمین کو تباہ کر دے۔ یہ بھی یاد رہے کہ صرف گناہ سے پاک ہونا انسان کیلئے کمال نہیں۔ ہزاروں کیڑے مکوڑے اور چرندو پرند ہیں کہ کوئی گناہ نہیں کرتے۔ پس کیا ان کی نسبت ہم خیال کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تک پہنچ گئے ہیں۔ پس سوال یہ ہے کہ مسیح نے رُوحانی کمالات کے حاصل کرنے کے لئے کونسا کفّارہ دیا انسان خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے لئے دو چیزوں کا محتاج ہے۔ اوّل بدی سے پرہیز کرنا۔ دوم نیکی کے اعمال کو حاصل کرنا اور محض بدی کو چھوڑنا کوئی ہنر نہیں ہے۔ پس اصل بات یہ ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے یہ دونوں قُوتیں اس کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ ایک طرف تو جذباتِ نفسانی اس کو گناہ کی طرف مائل کرتے ہیں اور دُوسری طرف محبتِ الٰہی کی آگ جو اُس کی فطرت کے اندر مخفی ہے وہ اُس گناہ کے خس و خاشاک کو اس طرح پر جلا دیتی ہے جیسا کہ ظاہری آگ ظاہری خس و خاشاک کو جلاتی ہے۔ مگر اُس رُوحانی آگ کا افروختہ ہونا جو گناہوں کو جلاتی ہے معرفتِ الٰہی پر موقوف ہے کیونکہ ہر ایک چیز کی محبت اور عشق اُس کی معرفت سے وابستہ ہے۔ جس چیز کے حسن اور خوبی کا تمہیں علم نہیں تم اس پر عاشق نہیں ہو سکتے۔ پس خدائے عزّوجلّکی خوبی اور حُسن و جمال کی معرفت اس کی محبت پیدا کرتی ہے اور محبت کی آگ سے گناہ جلتے ہیں مگر سنّت اللہ اِسی طرح پر جاری ہے کہ وہ معرفت عام لوگوں کو نبیوں کی ؔ معرفت ملتی ہے اور ان کی روشنی سے وہ روشنی حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ اُن کو دیا گیا وہ اُن کی پیروی سے سب کچھ پالیتے ہیں۔ مگر افسوس کہ عیسائی مذہب میں معرفت الٰہی کادروازہ بند ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی پر مُہر لگ گئی ہے اور آسمانی نشانوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پھر تازہ بتازہ معرفت کس ذریعہ سے حاصل ہو۔ صرف قصّوں کو زبان سے چاٹو۔ ایسے مذہب کو ایک عقلمند کیا کرے جس کا خدا ہی کمزور اور عاجز ہے اور جس کا سارا مدار قصّوں اور کہانیوں پر ہے۔