اورؔ تمام سلسلہ اس کا تباہ ہو جائے گا اور خدا کا غضب اس پر نازل ہوگا اور اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہے گا لیکن بر خلاف اس کے خدا نے مجھے کامل ترقی دی اور کامل عزت اور تمام اطراف دنیا میں کامل شہرت دی اور میری زندگی میں اس فضول گو اور بے ادب اور تیزمزاج اور مُنہ پھٹے دشمن کو طاعون سے ہلاک کیا۔ پس کیا اب بھی اُس کا نام موسیٰ رکھو گے؟ یہ کیسا موسیٰ تھا کہ جس کو وہ فرعون کہتا تھا اور اپنی زندگی میں اس کی ہلاکت کی خبر دیتا تھا اُسی کے سامنے طاعون کی ذلیل موت سے وہ ہلاک ہو گیا۔ یہ عجیب بات ہے کہ جس شخص کو وہ فرعون قرار دیتا تھا اُس نے اپنا یہ الہام شائع کیا تھا کہ اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّار یعنی خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ اِس گھر کی چاردیواری کے اندر ہیں۔ سب کو میں طاعون سے بچاؤں گا۔ سو گیار۱۱ہ برس سے بڑے بڑے حملے طاعون کے اِس نواح میں ہو رہے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے گھر کا ایک کتّا بھی طاعون سے نہیں مرا مگر جو اپنے تئیں موسیٰ قرار دیتا تھا خود وہ طاعون سے مر گیا اور صرف یہی نہیں بلکہ وہ تمام الہام اُس کے جھوٹے نکلے اور اُس کی ذلّت کے باعث ہوئے جو میری موت اور طاعون اور ناکامی کے بارے میں اس نے شائع کئے تھے۔ پس کہاں گیا یہ الہام کہ انّی مھین لمن اراد اھانتک۔ یہ انجام اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو حدیث النفس کا نام الہام رکھ لیتے ہیں اور خدا کے فعل کی شہادت سے اپنے الہامات کا امتحان نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ جب تک کہ ایک بارش کی طرح فوق العادت خدا کے نشان الہام کی تائید میں نازل نہ ہوں جومعمولی طریق سے بہت بڑھے ہوئے ہوں تب تک اپنے الہاموں کو خدا کا کلام سمجھنا دوزخ کی راہ اختیار کرنا ہے اور ذلّت کی موت خریدنا ہے کیونکہ الہام صرف قول ہے اور قول میں شیطان بھی شریک ہو سکتا ہے اور انسان بھی بطور افترا ایسا قول بیان کر سکتا ہے اور حدیث النفس بھی ہو سکتی ہے۔ پس نہایت حماقت اور جہالت ہے کہ انسان صرف اِس بات پر بھروسہ کرکے کہ اس کی زبان پر کچھ جاری ہوتا ہے ایسے