صرؔ ف اِسی بخار سے ہلاک ہو گئے اور بجز طاعون کونسا بخار ہے صرف ایک دن میں ہلاک کر سکتا ہے۔ یاد رہے کہ طاعون کے لئے شدید بخار ہوناایک لازمی امر ہے جو ایک دو دن میں ہی کام تمام کر دیتا ہے۔ پس جبکہ الٰہی بخش کی موت کے وقت طاعون لاہور میں زور سے پھیل رہی تھی اور وہ بھی طاعون زدہ مُردہ کا جنازہ پڑھنے کے لئے گیا تھا اور وہیں بیہوش ہو گیا تھا توکیا کسی جنّ کے آسیب سے یہ حالت ہو گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ طاعون کے دن تھے اور لاہور میں طاعون شدت سے زور پر تھی اس سے کون انکار کر سکتا ہے کہ ان دنوں میں صدہا لوگ طاعونی بخار سے لاہور میں مر چکے ہیں اور اب تک یہی حالت ہے بعض کو گلٹی نکلتی ہے اور بعض کو نہیں۔ اور بعض نمونیا پلیگ سے مرتے ہیں اور بعض سکتہ کی صورت میں فی الفور مرجاتے ہیں تو پھر خواہ نخواہ بے چارہ الٰہی بخش پر یہ جھوٹ باندھناکہ وہ پلیگ سے نہیں مرا کس قدر بے باکی ہے۔ کیا یعقوب پلیگ سے مراتھایانہیں؟ ہمیں معتبر ڈاکٹروں کے ذریعہ سے معلوم ہوا ہے الٰہی بخش کو سخت قسم کی پلیگ ہوئی تھی جس نے ایک دن میں ہی اُس کا کام تمام کر دیا۔ چنانچہ ہم اس جگہ بطور شہادت ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسسٹنٹ سرجن کا خط ذیل میں درج کر دیتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ حضرت سیّدی ومولائی و امامی حجۃ اللہ المسیح الموعود سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ۔ الحمدللہ کہ حضور کی پیشگوئی پوری ہوئی اور دشمن ہلاک ہو گیا۔ حضورکو مبارک ہو۔ الٰہی بخش کو پوری علامات طاعون نمودار ہو گئی تھیں اور معتبر ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ اُس کے بائیں ران کی بُن میں یعنی کنج ران میں ایک گلٹی بھی نکلی تھی۔ اس لئے اس میں کچھ شک نہیں کہ اُس کی موت طاعون سے ہوئی۔ باقی خیریت ہے۔ خاکسار یعقوب بیگ از لاہور پھر اگر یہ سوال ہو کہ الٰہی بخش کے دوستوں میں سے کس نے اس بات کو شائع کیا ہے کہ وہ طاعون سے مر گیا تو ہم ذیل میں پرچہ اہل حدیث مورخہ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء کی شہادت الٰہی بخش کی طاعون کے بارے میں نقل کرتے ہیں اور وہ یہ ہے۔