کیونکہ جن منازل تک بباعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔ اور جبکہ خدا تعالیٰ نے اسم اللہ کو اپنے تمام صفات اور افعال کا موصوف ٹھہرایا ہے تو اللہ کے لفظ کے معنے کرنے کے وقت کیوں اس ضروری امر کو ملحوظ نہ رکھا جاوے۔ ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ قرآن شریف سے پہلے عرب کے لوگ اللہ کے لفظ کو کن معنوں پر استعمال کرتے تھے۔ مگر ہمیں اِس بات کی پابندی کرنی چاہئے کہ خداتعالیٰ نے قرآن شریف میں اول سے آخر تک اللہ کے لفظ کو انہیں معنوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ وہ رسولوں اور نبیوں اور کتابوں کا بھیجنے والا اور زمین اور آسمان کا پیدا کرنے والااور فلاں فلاں صفت سے متصف اور واحد لا شریک ہے۔ ہاں جن لوگوں کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں پہنچا اور وہ بالکل بے خبر ہیں اُن سے اُن کے علم اور عقل اور فہم کے موافق مواخذہ ہوگا۔ لیکن یہ ہر گز ممکن نہیں کہ وہ ان مدارج اورمراتب کو پالیں جو رسول کریم کی پیروی سے لوگوں کو ملیں گے۔ کیونکہ جن منازل تک بباعث پیروی نور رسالت پیروی کرنے والے پہنچ سکتے ہیں محض اندھے نہیں پہنچ سکتے اور یہ خدا کا فضل ہے جس پر چاہے کرے۔* پھر اس ظلم کو تو دیکھو کہ باوجود اس کے کہ قرآن شریف کی صدہا آیتیں بلند آواز سے کہہ رہی ہیں کہ نری توحید موجب نجات نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے ساتھ رسول کریم پر ایمان لاناشرط ہے پھر بھی میاں عبد الحکیم خان ان آیات کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے اور یہودیوں کی طرح ایک دو آیت جو مجمل طور پر واقع ہیں اُن کے اُلٹے معنے کرکے بار بار پیش کرتے ہیں۔ ہر ایک عقلمندسمجھ سکتا ہے کہ اگر ان آیات کے یہی معنے ہیں جو عبد الحکیم پیش کرتا ہے تب اسلام دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اورؔ جو کچھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احکام مثل نماز روزہ وغیرہ کے سکھلائے ہیں وہ سب کچھ بیہودہ اور لغو اور عبث ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اگر یہی بات ہے کہ ہر ایک شخص اپنی خیالی توحید سے * اگر اس مجمل آیت کے یہ معنی کئے جائیں تو کیا وجہ کہ اس دوسری مجمل آیت یعنی 3 3 ۱؂ کی رو سے اعتقاد یہ رکھا جائے کہ شرک بھی بخشا جائے گا۔منہ