کہ اؔ صل شریر پیچھے سے پکڑے جاتے ہیں جو اصل مبدء فساد ہوتے ہیں جیسا کہ اُن قہری نشانوں سے جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے سامنے دکھلائے۔ فرعون کا کچھ نقصان نہ ہوا صرف غریب مارے گئے لیکن آخر کار خدا نے فرعون کو مع اُس کے لشکر کے غرق کیا۔ یہ سُنّت اللہ ہے جس سے کوئی واقف کار انکار نہیں کر سکتا۔ (۶)سوال حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ اُن مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافربن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبد الحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اِس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔ الجواب:۔ یہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اِسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مُفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے 3 3 ۱؂ یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا ۔* دوسرا خدا کی کلام کی تکذیب کرنے والا۔ پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا، اور اگر میں مُفتری نہیں تو بلا شُبہ وہ کفر اُس پر پڑے گا جیسا کہ * ظالم سے مُراد اِس جگہ کافر ہے۔ اِس پر قرینہ یہ ہے کہ مُفتری کے مقابل پر مکذّب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایاہے اور بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اِس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔ منہ * ظالم سے مُراد اِس جگہ کافر ہے۔ اِس پر قرینہ یہ ہے کہ مُفتری کے مقابل پر مکذّب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایاہے اور بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اِس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔ منہ * ظالم سے مُراد اِس جگہ کافر ہے۔ اِس پر قرینہ یہ ہے کہ مُفتری کے مقابل پر مکذّب کتاب اللہ کو ظالم ٹھہرایاہے اور بلا شبہ وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے کلام کی تکذیب کرتا ہے کافر ہے۔ سو جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ مجھے مفتری قرار دے کر مجھے کافر ٹھہراتا ہے۔ اِس لئے میری تکفیر کی وجہ سے آپ کافر بنتا ہے۔ منہ