باطل ؔ معبودوں سے کنارہ کرتا ہے یعنی بُتوں یا انسانوں یا سورج چاند وغیرہ کی پرستش سے دستکش ہوتا ہے۔ ایسا ہی انفسی باطل معبودوں سے پرہیز کرے یعنی اپنی روحانی جسمانی طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے اور اُن کے ذریعہ سے عُجب کی بَلا میں گرفتار ہونے سے اپنے تئیں بچاوے۔ پس اِس صورت میں ظاہر ہے کہ بجز ترک خودی اور رسول کا دامن پکڑنے کے توحید کامل حاصل نہیں ہو سکتی۔
اور جو شخص اپنی کسی قُوت کو شریک باری ٹھہراتا ہے وہ کیونکر موحد کہلا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے جا بجا توحید کامل کو پیروی رسول سے وابستہ کیا ہے۔ کیونکہ کامل توحید ایک نئی زندگی ہے اور بُجز اُس کے نجات حاصل نہیں ہو سکتی جب تک خدا کے رسول کا پیرو ہو کر اپنی سفلی زندگی پر موت وارد نہ کرے۔ علاوہ اس کے قرآن شریف میں بموجب قول ان نادانوں کے تناقض لازم آتا ہے کیونکہ ایک طرف تو جابجا وہ یہ فرماتا ہے کہ بجُز ذریعۂ رسول توحید حاصل نہیں ہو سکتی اور نہ نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ پھر دوسری طرف گویا وہ یہ کہتا ہے کہ حاصل ہو سکتی ہے حالانکہ توحید اور نجات کا آفتاب اور اُس کو ظاہر کرنے والا صرف رسول ہی ہوتا ہے اُسی کی روشنی سے توحید ظاہر ہوتی ہے پس ایسا تناقض خدا کی کلام کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔
بڑی غلطی اس نادان کی یہ ہے کہ اُس نے توحید کی حقیقت کو بالکل نہیں سمجھا توحید ایک نور ہے جو آفاقی وانفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بُجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ مَیں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصوّر کرے اور دعامیں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اُس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔
اخیر پر ہم یہ بیان کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر یہ مان لیں کہ اللہ کا لفظ ایک عام معنوں پر مشتمل ہے جس کا ترجمہ خدا ہے اور اُن معنوں کو نظر انداز کر دیں جو قرآن شریف پر نظر تدبر ڈال کر معلوم ہوتے ہیں یعنی یہ کہ اللہ کے مفہوم میں یہ داخل ہے کہ وہ وہ