جو لوگ یہود و نصاریٰ اور ستارہ پرست ہیں جو شخص اُن میں سے اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اعمال صالحہ بجا لائے گا خدا اُس کو ضائع نہیں کرے گا اور ایسے لوگوں کا اَجر اُن کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کو کچھ خوف نہیں ہوگا اور نہ غم ۔*
یہ آیت ہے جس سے بباعث نادانی اور کج فہمی یہ نتیجہ نکالا گیاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پرایمان لانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اپنے نفسِ امّارہ کے پیرو ہو کر محکمات اور بینات قرآنی کی مخالفت کرتے ہیں اور اسلام سے خارج ہونے کے لئے متشابہات کی پناہ ڈھونڈتے ہیں۔ اُن کو یاد رہے کہ اِس آیت سے وہ کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور آخرت پر ایمان لانا اِس بات کو مستلزم پڑا ہوا ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا جائے۔ وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اللّٰہ کے نام کی قرآن شریف میں یہ تعریف کی ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو ربّ العالمین اور رحمن اور رحیم ہے جس نے زمین اور آسمان کو چھ۶دن میں بنایا اور آدم کو پیدا کیا اور رسول بھیجے اور کتابیں بھیجیں اور سب کے آخر حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا کیا جو خاتم الانبیاء اور خیر الرسل ہے اور یوم آخر قرآن شریف کی رُو سے یہ ہے جس میں مُردے جی اُٹھیں گے اور پھر ایک فریق بہشت میں داخل کیا جائے گا جو جسمانی اور روحانی نعمت کی جگہ ہے اور ایک فریق دوزخ میں داخل کیا جاوے گا جو روحانی اور جسمانی عذاب کی جگہ ہے اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اس یوم آخر پر وہی لوگ ایمان لاتے ہیں جو اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں۔
پس جبکہ اللہ تعالیٰ نے خود لفظ اللہ اور یوم آخر کے بتصریح ایسے معنی کر دئے جو اسلام سے مخصوص ہیں توجو شخص اللہ پر ایمان لائے گا اور یوم آخر پر ایمان لائے گا۔ اُس کے لئے یہ لازمی امر ہوگا کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاوے اور کسی کا
* اگر اس آیت سے یہ نکلتا ہے کہ صرف توحید کافی ہے تو پھر مفصلہ ذیل آیت سے یہ ثابت ہوگا کہ شرک وغیرہ سب گناہ بغیر توبہ کے بخشے جائیں گے اور وہ آیت یہ ہے۔3 33 ۱ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں۔ منہ