اِس بات کے کہ اُن میں رؤیا اور کشف کے حصول کیلئے ایک فطرتی استعداد ہوتی ہے اور دماغی بناوٹ اِس قسم کی واقع ہوتی ہے کہ خواب و کشف کا کسی قدر نمونہ اُن پر ظاہر ہو جاتا ہے وہ اپنی اصلاح نفس کیلئے بھی کسی قدر کوشش کرتے ہیں اور ایک سطحی نیکی اور راستبازی اُن میں پیدا ہو جاتی ہے جس کی آمد سے ایک محدود دائرہ تک رؤیا صادقہ اور کشوف صحیحہ کے انوار اُن میں پیدا ہو جاتے ہیں مگر تاریکی سے خالی نہیں ہوتے بلکہ ان کی بعض دعائیں بھی منظور ہو جاتی ہیں مگر عظیم الشان کاموں میں نہیں کیونکہ اُن کی راستبازی کامل نہیں ہوتی۔ بلکہ اُس شفاف پانی کی طرح ہوتی ہے جو اوپر سے تو شفاف نظر آتا ہو مگر نیچے اُس کے گو براورگند ہو اور چونکہ ان کاتزکیۂ نفس پورا نہیںؔ ہوتا اور انکے صدق و صفا میں بہت کچھ نقصان ہوتا ہے اسلئے کسی ابتلا کے وقت وہ ٹھوکر کھا جاتے ہیں اور اگر خدا تعالیٰ کا رحم انکے شاملِ حال ہو جائے اور اُس کی ستّاری اُن کا پردہ محفوظ رکھے تب تو بغیر کسی ٹھوکر کے دنیا سے گذر جاتے ہیں اور اگر کوئی ابتلا پیش آجاوے تو اندیشہ ہوتا ہے کہ بلعم کی طرح انکا انجام بدنہ ہو اور ملہم بننے کے بعد کُتّے سے تشبیہ نہ دئے جائیں کیونکہ ان کی علمی اور عملی اور ایمانی حالت کے نقصان کی وجہ سے شیطان اُن کے دروازے پر کھڑا رہتا ہے اور کسی ٹھوکر کھانے کے وقت فی الفور اُن کے گھر میں داخل ہو جاتا ہے وہ دور سے روشنی کو دیکھ لیتے ہیں مگر اس روشنی کے اندر داخل نہیں ہوتے اور نہ اس کی گرمی سے کافی حصّہ ان کو ملتا ہے اسلئے ان کی حالت ایک خطرہ کی حالت ہوتی ہے خدا نور ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا 3 ۱؂ پس وہ شخص جو صرف اس نور کے لوازم کو دیکھتا ہے وہ اُس شخص کی مانند ہے جو دور سے ایک دھوا ں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی نہیں دیکھتا اِسلئے وہ روشنی کے فوائد سے محروم ہے اور نیز اس کی گرمی سے بھی جو بشریت کی آلودگی کو جلاتی ہے۔ پس وہ لوگ جو صرف منقولی یا معقولی دلائل یا ظنّی الہامات سے خدا تعالیٰ کے وجود پر دلیل پکڑتے ہیں جیسے علماء ظاہری یا جیسے فلسفی لوگ اور یا ایسے لوگ جو صرف اپنے روحانی قویٰ سے جو استعداد کشوف اور رؤیا ہے خدا تعالیٰ کی ہستی کو مانتے ہیں مگر خدا کے قرب کی روشنی سے بے نصیب ہیں وہ اُس انسان کی مانند ہیں جو دور سے آگ کا دھواں دیکھتا ہے مگر آگ کی روشنی کو نہیں دیکھتا اور صرف دھوئیں پر غور کرنے سے آگ کے وجود پر یقین کر لیتا ہے ایسا شخص اس بصیرت سے محروم ہوتا ہے جو بذریعہ روشنی حاصل ہوتی ہے۔ لیکن وہ شخص جو اس نور کی روشنی کو دور