مگر صرف واحد سمجھنے سے نجات نہیں ہو سکتی بلکہ نجات تو دو امر پر موقوف ہے۔
(۱) ایک یہ کہ یقین کامل کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی اور وحدانیت پر ایمان لاوے۔
(۲) دوسرے یہ کہ ایسی کامل محبت حضرت احدیّت جلّ شانہٗ کی اُس کے دل میں جاگزین ہو۔ کہ جس کے استیلا اور غلبہ کا یہ نتیجہ ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت عین اُس کی راحتِ جان ہو جس کے بغیر وہ جی ہی نہ سکے اور اس کی محبت تمام اغیار کی محبتوں کو پامال اور معدوم کر دے یہی توحید حقیقی ہے کہ ؔ بجز متابعت ہمارے سیّد ومولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔ کیوں حاصل نہیں ہو سکتی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات غیب الغیب اور وراء الوراء اور نہایت مخفی واقع ہوئی ہے جس کو عقول انسانیہ محض اپنی طاقت سے دریافت نہیں کر سکتیں اور کوئی برہان عقلی اس کے وجود پر قطعی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ عقل کی دوڑ اور سعی صرف اِس حد تک ہے کہ اس عالم کی صنعتوں پر نظر کرکے صانع کی ضرورت محسوس کرے مگر ضرورت کا محسوس کرنا اور شئے ہے اور اس درجہ عین الیقین تک پہنچنا کہ جس خدا کی ضرورت تسلیم کی گئی ہے وہ درحقیقت موجود بھی ہے یہ اور بات ہے۔ اور چونکہ عقل کا طریق ناقص اور نا تمام اور مشتبہ ہے اسلئے ہر ایک فلسفی محض عقل کے ذریعہ سے خدا کوشناخت نہیں کر سکتا بلکہ اکثر ایسے لوگ جو محض عقل کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ کا پتہ لگانا چاہتے ہیں آخر کار دہریہ بن جاتے ہیں۔ اور مصنوعا ت زمین و آسمان پر غور کرنا کچھ بھی اُن کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔ اور خدا تعالیٰ کے کاملوں پر ٹھٹھا اور ہنسی کرتے ہیں اور اُن کی یہ حجت ہے کہ دنیا میں ہزارہا ایسی چیزیں پائی جاتی ہیں جن کے وجود کا ہم کوئی فائدہ نہیں دیکھتے اور جن میں ہماری عقلی تحقیق سے کوئی ایسی صنعت ثابت نہیں ہوتی جو صانع پر دلالت کرے بلکہ محض لغو اور باطل طور پر اُن چیزوں کا وجود پایا جاتا ہے۔ افسوس وہ نادان نہیں جانتے کہ عدم علم سے عدم شے لازم نہیں آتا۔ اِس قسم کے لوگ کئی لاکھ اِس زمانہ میں پائے جاتے ہیں جو اپنے تئیں اول درجہ کے عقلمند اور فلسفی سمجھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے وجود سے سخت منکر ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ اگر کوئی عقلی دلیل زبر دست اُن کو ملتی تو وہ خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہ کرتے۔ اور اگر وجود باری جلّ شانہٗ