واقفیت بھی اسلامی تاریخ سے رکھتا ہوگا اُس کو ہمارے اِس بیان سے انکار نہیں ہوگا۔ اور ؔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ اگرچہ اسلامی لڑائیاں مدافعت کے طور پر تھیں یعنی ابتدا انکی کفار کی طرف سے تھی اور کفارِ عرب اپنے حملوں سے باز نہیں آتے تھے اِس خوف سے کہ مبادادینِ اسلام جزیرہ عرب میں پھیل جائے اور اسی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے ساتھ لڑنے کا حکم ہوا تھا۔ تا مظلوموں کو اُن فرعونوں کے ہاتھ سے رہائی بخشیں مگر اِس میں بھی کچھ شبہ نہیں کہ پھر بھی اگر کفّار کو یہ پیغام دیا جاتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ماننا کچھ ضروری نہیں اور آنجناب پر ایمان لانا کچھ شرط نجات نہیں صرف اپنے طور پر خدا کو واحد لا شریک سمجھو گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکذّب اور مخالف اور دشمن رہو اور اِس بات کی ضرورت نہیں کہ انکو اپنا سردار اور پیشوا سمجھ لو تو اِس سے اس قدر خونریزی کی نوبت نہ آتی بالخصوص یہودی جو خدا کو واحد لاشریک سمجھتے تھے کیا وجہ کہ اُن سے لڑائیاں کی گئیں یہاں تک کہ بعض موقعوں میں کئی ہزار یہودی گرفتار کرکے ایک ہی دن میں قتل کئے گئے۔ اِس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر صرف توحید نجات کے لئے کافی تھی تو یہودیوں سے خواہ نخواہ لڑائیاں کرنا اور اُن میں سے ہزاروں کو قتل کرنا یہ فعل سراسر ناجائز اور حرام تھا۔ پھر خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اِس فعل کے کیوں مرتکب ہوئے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کا علم نہ تھا؟ اور اگر خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں کو غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تمام نبی یہی سکھلاتے آئے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو واحد لا شریک مانو اور ساتھ اس کے ہماری رسالت پر بھی ایمان لاؤ۔ اِسی وجہ سے اسلامی تعلیم کا اِن دو فقروں میں خلاصہ تمام اُمّت کو سکھلایا گیا کہ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ۔ یہ بھی یاد رہے کہ خدا کے وجود کا پتہ دینے والے اور اُس کے واحد لا شریک ہونے کا علم لوگوں کو سکھلانے والے صرف انبیاء علیہم السلام ہیں۔ اور اگر یہ مقدس لوگ دنیا میں نہ آتے تو صراط مستقیم کا یقینی طور پر پانا ایک ممتنع اور محال امر تھا اگرچہ زمین و آسمان پر غور کرکے