کے متفرق مقامات میں ان بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے لیکن اِن دنوں میں عبد الحکیم خان نام ایک شخص جو پٹیالہ کی ریاست میں اسسٹنٹ سرجن ہے جو پہلے اس سے ہمارے سلسلہ بیعت میں داخل تھا مگر بباعث کمی ملاقات اور قلّتِ صُحبت دینی حقائق سے محض بے خبر اور محروم تھا اور تکبّر اور جہل مرکب اور رعونت اور بد ظنی کی مرض میں مبتلا تھا اپنی بد قسمتی سے مرتد ہو کر اِس سلسلہ کا دشمن ہو گیا ہے اور جہاں تک اس سے ہو سکا خدا کے نور کو معدوم کرنے کیلئے اپنی جاہلانہ تحریروں میں زہریلی پھونکوں سے کام لے رہا ہے تا اس شمع کو بجھا وے جو خدا کے ہاتھ سے روشن ہے اس لئے مناسب سمجھا گیا کہ اختصار کے لحاظ سے بعض اس کے ایسے اعتراضات کا جواب لکھ دیا جائے جو عوام کو مطلع کرنے کیلئے قابل جواب ہیں کیونکہ عوام پر یہ امر بباعث غفلت اور مشغولی دنیا کے البتہ مشکل ہے کہ تمام میری کتابیں تلاش کرکے اُن میں سے یہ جواب معلوم کر لیں۔ سو پہلے وہ امر لکھنے کے لائق ہے جس کی وجہ سے عبد الحکیم خان ہماری جماعت سے علیحدہ ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کا یہ عقیدہ ہے کہ نجات اُخروی حاصل کرنے کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں بلکہ ہر ایک جو خدا کو واحد لا شریک جانتا ہے (گو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکذب ہے) وہ نجات پائے گا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اُس کے نزدیک ایک شخص اسلام سے مرتد ہو کر بھی نجات پا سکتا ہے اور ارتداد کی سزا دینا اُس کو ظلم ہے۔ مثلاً حال میں ہی جو ایک شخص عبد الغفور نام مرتد ہوکر آریہ سماج میں داخل ہوا اور دھرم پال نام رکھایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور تکذیب میں دن رات کمربستہ ہے وہ بھی عبد الحکیم خان کے نزدیک سیدھا بہشت میں جائے گا۔ کیونکہ آریہ لوگ بُت پرستی سے دستکش ہیں۔ مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسے عقیدہ کی رو سے انبیاء علیہم السلام کا مبعوث ہونا محض بیہودہ اور لغو کام ٹھہرے گا۔ کیونکہ جب ایک شخص انبیاء علیہم السلام کا مکذّب اور دشمن ہو کر بھی خدا کو ایک جاننے سے نجات پا سکتا ہے تو پھر اس صورؔ ت میں گویا انبیاء صرف عبث طور پر دنیا میں بھیجے گئے۔* ورنہ اُن کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔ * اگر یہ بات سچ ہے کہ وہ لوگ جو ابنیاء علیہم السلام کی تکذیب کرنے والے اور اُن کے دشمن ہیں محض اپنی خیالی توحید سے نجات پا جائیں گے تو بجائے اس کے کہ ان کفّار کو قیامت میں کوئی عذاب ہو انبیاء خود ایک قسم کے عذاب میں مبتلا ہو جائیں گے۔