کہ رِحم سے اُس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اوروہ رحم کی طرف کھینچا جائے۔ پس ایسا ہی روحانی ذوق شوق اور حا لتِ خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحیم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اوراس کی طرف کھینچا جائے۔ بلکہ جیسا کہ نطفہ کبھی حرامکاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تواس میں بھی وہی لذّت نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ۔ پس ایسا ہی بُت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع و خضوع اور حالتِ ذوق اور شوق رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور اُن لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرامکار عورتوں کے اندام نہانی میں جاکرباعثِ لذّت ہوتا ہے۔ بہرحال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہے حالتِ خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صرف حا لتِ خشوع اور رِقّت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہوبھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہوجائے اور اس کو اس فعل سے کمال لذّت حاصل ہو تو یہ لذّت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہوگیا ہے ۔ پس ایساہی خشوع اور سوز و گدازکی حالت گو وہ کیسی ہی لذّت اور سرور کے ساتھ ہو خدا سے تعلق پکڑنے کے لئے کوئی لازمی علامت نہیں ہے*۔ یعنی کسی شخص میں نماز اور یاد الٰہی کی حالت میں خشوع اور سوزو گداز اور گریہ وزاری پیدا ہونا لازمی طور پر اس بات کو
ابتدائی حالت میں خشوع اور رِقّت کے ساتھ ہر طرح کے لغو کام جمع ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ بچہ میں رونے کی عادت بہت ہوتی ہے اور بات بات میں ڈر جاتااور خشوع اور انکسار اختیار کرتا ہے مگر باایں ہمہ بچپن کے زمانہ میں طبعاً انسان بہت سے لغویات میں مبتلا ہوتا ہے اور سب سے پہلے لغو باتوں اور لغو کاموں کی طرف ہی رغبت کرتا ہے اور اکثر لغو حرکات اور لغو طور پر کودنا اور اچھلنا ہی اس کو پسند آتا ہے جس میں بسا اوقات اپنے جسم کو بھی کوئی صدمہ پہنچا دیتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کی راہ میں فطرتاً پہلے لغویات ہی آتے ہیں اور بغیر اس مرتبہ کے طے کرنے کے دوسرے مرتبہ تک وہ پہنچ ہی نہیں سکتا۔ پس طبعاً پہلا زینہ بلوغ کا بچپن کے لغویات سے پرہیز کرنا ہے سواس سے ثابت ہے کہ سب سے پہلا تعلق انسانی سرشت کو لغویات سے ہی ہوتا ہے۔ منہ