اور نطفہ ہونے کی حالت میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں اوررحم سے تعلق نہیں پکڑتے۔ ایسا ہی دنیا میں ہزارہا خشوع کی حالتیں ایسی ہیں کہ رحیم خدا سے تعلق نہیں پکڑتیں اور ضائع جاتی ہیں۔ ہزارہا جاہل اپنے چند روزہ خشوع اور وجد اور گریہ وزاری پر خوش ہوکر خیال کرتے ہیں کہ ہم ولی ہوگئے غوث ہوگئے قطب ہوگئے اور ابدال میں داخل ہوگئے اور خدارسیدہ ہوگئے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں ہنوز ایک نطفہ ہے۔ابھی تو نام خدا ہے غنچہ صبا تو چُھو بھی نہیں گئی ہے۔ افسوس کہ انہیں خام خیالیوں سے ایک دنیا ہلاک ہوگئی۔ اور یاد رہے کہ یہ روحانی حالت کا پہلا مرتبہ جو حالتِ خشوع ہے طرح طرح کے اسباب سے ضائع ہوسکتا ہے جیسا کہ نطفہ جو جسمانی حالت کا پہلا مرتبہ ہے انواع اقسام کے حوادث سے تلف ہو سکتاہے منجملہ ان کے ذاتی نقص بھی ہے۔ مثلاً اس خشوع میں کوئی مشرکانہ ملونی ہے یا کسی بدعت کی آمیزش ہے یا اور لغویات کا ساتھ اشتراک ہے۔مثلاً نفسانی خواہشیں اور نفسانی ناپاک جذبات بجائے خود زور مار رہے ہیں یا سفلی تعلقات نے دل کو پکڑ رکھا ہے یا جیفۂ دنیاکی لغو خواہشوں نے زیر کردیا ہے پس ان تمام ناپاک عوارض کے ساتھ حالت خشوع اس لائق نہیں ٹھہرؔ تی کہ رحیم خدا اس سے تعلق پکڑ جائے جیسا کہ اس نطفہ سے رحم تعلق نہیں پکڑ سکتا جو اپنے اندر کسی قسم کا نقص رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو جوگیوں کی حالت خشوع اور عیسائی پادریوں کی حالت انکسار ان کو کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور گو وہ سوزوگداز میں اس قدر ترقی کریں کہ اپنے جسم کو بھی ساتھ ہی استخوان بے پوست کردیں تب بھی رحیم خدا اُن سے تعلق نہیں کرتا کیونکہ اُن کی حالت خشوع میں ایک ذاتی نقص ہے اور ایسا ہی وہ بدعتی فقیراسلام کے جو قرآن شریف کی پیروی چھوڑ کر ہزاروں بدعات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ بھنگ چرس اور شراب پینے سے بھی شرم نہیں کرتے اور دوسرے فسق و فجور بھی اُن کے لئے شیر مادر ہوتے ہیں چونکہ وہ ایسی حالت رکھتے ہیں کہ رحیم خدا سے اور اُس کے تعلق سے کچھ مناسبت نہیں رکھتے بلکہ رحیم خدا کے نزدیک وہ تمام حالتیں