طریق نجات کا پیش کیا ہے اُسؔ کی فلاسفی یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں قدیم سے ایک طرف تو ایک زہر رکھا گیا ہے جو گناہوں کی طرف رغبت دیتا ہے اور دوسری طرف قدیم سے انسانی فطرت میں اس زہر کا تریاق رکھا ہے جو خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ جب سے انسان بنا ہے یہ دونوں قوتیں اس کے ساتھ چلی آئی ہیں۔ زہر ناک قوت انسان کے لئے عذاب کا سامان طیار کرتی ہے۔ اور پھر تریاقی قوت جو محبت الٰہی کی قوت ہے وہ گناہ کو یوں جلا دیتی ہے جیسے خس و خاشاک کو آگ جلا دیتی ہے۔ یہ ہرگز نہیں کہ گناہ کی قوت جو عذاب کا سامان تھی وہ تو قدیم سے انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے لیکن گناہوں سے نجات پانے کے لئے جو سامان ہے وہ کچھ تھوڑی مدّت سے پیدا ہوا ہے یعنی صرف اس وقت سے جبکہ یسوع مسیح نے صلیب پائی۔ ایسا اعتقاد وہی قبول کرے گا جو اپنے دماغ میں ایک ذرّہ عقلِ سلیم نہیں رکھتا بلکہ یہ دو۲_نوں سامان قدیم سے اور جب سے کہ انسان پیدا ہوا انسانی فطرت کو دیئے گئے ہیں۔ یہ نہیں کہ گناہ کے سامان تو پہلے سے خدا تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھ دیئے مگر نجات دینے کی دوا ابتدائی ایام میں اس کو یاد نہ آئی۔ یہ چار ہزار برس بعد سُوجھی۔
اب ہم اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔ اور محض لِلّٰہ آپ کو صلاح دیتے ہیں کہ اگر آپ زندہ برکات کے خواہاں ہیں تو اس مسیح کا نام نہ لو جو مدت ہوئی کہ فوت ہو چکا۔ اور ایک ذرّہ اُس کی زندہ برکات موجود نہیں۔ اور اس کی قوم بجائے محبت الٰہی کی مستی کے شراب کی مستی میں سب سے زیادہ سبقت لے گئی ہے۔ اور بجائے اس کے کہ آسمانی مال لیں دنیا کے مال پر فریفتہ ہیں اگرچہ قماربازی سے ہی لیا جائے۔ بلکہ چاہیئے کہ